35638- عن أبي عبد الرحمن الأزدي قال: لما انقضى الجمل قامت عائشة فتكلمت فقالت: أيها الناس! إن لي عليكم حرمة الأمومة وحق الموعظة لا يتهمني إلا من عصى ربه، قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري وأنا إحدى نسائه في الجنة، ادخرني ربي وخصني من كل بضاعة، وبي ميز مؤمنكم من منافقكم، وبي رخص لكم في صعيد الأقراء، وأبي رابع أربعة من المسلمين وأول من سمي "صديقا"، قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنه راض، فتطوقه واهق الإمامة، ثم اضطرب حبل الدين فأخذ بطرفيه ورشق لكم أسلمه، فرقد النفاق وغاض نبغ الردة وأطفأ ما حشت يهود، وأنتم حينئذ جحظ 2 تنتظرون العدوة وتستمعون الصيحة قراب النأى، وأوذم 3 السقاء وامتاح 4 من المهواة 5 واجتهر دفن الرواء 6 فقبضه الله وأطفأ على هامة النفاق مذكيا نار الحرب للمشركين يقظان في نصرة الإسلام صفوحا عن الجاهلين. "الزبير بن بكار".
35638 ۔۔۔ ابوعبدالرحمن ازدی سے روایت ہے کہ جب اونٹ ہلاک ہوگیا عاشر (رض) کھڑی ہوئی اور گفتگو کی کہ اے لوگو میرا تم پر ماں ہونے کا حق ہے نصیحت کا حق ہے ک ہ مجھ پر وہی تہمت رکھ سکتا ہے جو اپنے رب کا نافرمان ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا ان کا سر میرے گود میں تھا اور میں جنت میں ان کی ازواج میں سے ایک ہوں۔ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مومنین اور منافقین میں فرق کیا میری وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے پاک مٹی پر تیمم کی اجازت دی میرا والد اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا شخص ہیں اور سب سے پہلے آپ کا نام صدیق رکھا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے اور ان کی گردن پر امامت کی ذمہ داری ڈالی گئی پھر دین کی اسی مضطرب ہوئی انھوں نے سیدھاسالم راستہ تمہارے لیے نکالا اس طرح نفاق دب گیا اور روت کا جوش ٹھنڈا ہوگیا اور یہودی کی جلائی ہوئی اگ بجھ گئی تم اس وقت ٹکٹکی باندھ کر دشمن کا انتظار کررہے تھے تم دور کی آواز کو قراب کی سنتے تھے شکیزہ کس دئیے گئے تھے اور خوب مشقت برداشت کی اور دین کو عام کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی اور نفاق کی کھوپڑی پر مشرکین کی لڑائی کی آگ جلائی وہ اسلام کی مدد میں بیدار اور جاہلوں سے عفودرگذر کرنے والے۔ (الزبیر بن بکار)