hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35651

.

كنز العمال

35651
Kanz al-Ummal
35642- عن الزهري عن أيوب بن بشير بن أكال قال: سمعت معاوية بن أبي سفيان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صبوا علي من سبع قرب من آبار شتى حتى أخرج إلى الناس وأعهد إليهم، فخرج عاصبا رأسه حتى صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إن عبدا من عباد الله خير بين الدنيا وبين ما عند الله فاختار ما عند الله"، فلم يلقنها إلا أبو بكر فبكى وقال: نفديك بآبائنا وأمهاتنا وأبنائنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " على رسلك أفضل الناس عندي في الصحبة وذات اليد ابن أبي قحافة، انظروا هذه الأبواب الشوارع في المسجد فسدوها إلا ما كان من باب أبي بكر فإني رأيت عليه نورا". "طس، كر وقال: هذا وهم فإن معاوية لم يرو هذا الحديث، وإنما رواه الزهري عن أيوب ابن النعمان أحد بني معاوية مرسلا، فظن "أحد بني" معاوية "حدثني" معاوية فغير حدثني بسمعت ونسب معاوية إلى أبي سفيان".
35642 ۔۔۔ زہری ایوب بن بشیر بن اکال سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر مختلف کنوں کا سات مشکیزہ پانی بہادو تاکہ میں لوگوں کے پاس نکل کر ایک عہد نامہ لکھو اور آپ سرپرپٹی باندھ کر نکلے یہاں تک منبر پر تشریف لے آئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا دینار ہنے یا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود نعمت کو اختیار کرنے کے درمیان انھوں جو اللہ تعالیٰ کے پاس نعمت ہے اس کو اختیار کیا کسی کو سمجھ نہ آیا سوائے ابوبکر (رض) کے وہ روپڑے اور عرض کیا ہم اپنے ماں باپ اور اولاد کو آپ پر قربان کرتے ہیں آپ اپنی جگہ قائم رہیں لوگوں میں میرے نزدیک سب سے افضل صحبت اور ہاتھ کے مال کے اعتبار سے ابن ا بی قحافہ ہیں دیکھو یہ دروازے جو مسجد کی طرف کھلے ہوئے ہیں ان سب کو بندکرو سوائے ابوبکر (رض) کے دروازہ کے کیونکہ مجھے اس پر نور نظر آیا (طبرانی فی الاوسط ابن عساکر اور کہا یہ دھم ہے کیونکہ معاویہ (رض) نے یہ حدیث روایت نہیں کی بلکہ زہری ایوب بن نعمان جو معاویہ (رض) کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت کی ہے تو انھوں نے بنو معاویہ کو معاملہ سمجھ لیا تو انھوں نے حدثنی کو سمعت سے بدل دیا اور معاویہ کو ابی سفیان کی طرف منسوب کررہا۔