35643- "مسند ربيعة بن كعب الأسلمي" كنت أخدم النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاني أرضا وأعطى أبا بكر أرضا، وجاءت الدنيا فاختلفنا في عذق نخلة فقال أبو بكر: هي في حدي، وقلت أنا: هي في حدي، فكان بيني وبين أبي بكر كلام، فقال أبو بكر كلمة كرهتها وندم،فقال لي: يا ربيعة رد علي مثلها حتى تكون قصاصا، فقلت: لا أفعل، فقال أبو بكر: لتقولن أو لأستعدين عليك رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: ما أنا بفاعل، قال: ورفض الأرض، فانطلق أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فانطلقت أتلوه، فجاء أناس من أسلم فقالوا: يرحم الله أبا بكر! في أي شيء يستعدي عليك رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الذي قال لك ما قال! فقلت: أتدرون من هذا؟ هذا أبو بكر الصديق وهو ثاني اثنين وهو ذو شيبة في الإسلام، فإياكم يلتفت فيراكم تنصروني عليه فيغضب فيأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيغضب لغضبه فيغضب الله لغضبهما فيهلك ربيعة، قالوا: فما تأمرنا؟ قلت، ارجعوا، فانطلق أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتبعته وحدي حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثه الحديث كما كان، فرفع إلي رأسه فقال: " يا ربيعة! ما لك وللصديق"؟ قلت: يا رسول الله! كان كذا وكذا فقال لي كلمة كرهتها فقال لي: قل لي كما قلت لك حتى يكون قصاصا، قال: أجل فلا ترد عليه ولكن قل: " غفر الله لك يا أبا بكر"! فولى أبو بكر وهو يبكي. "طب - عن ربيعة الأسلمي".
35643 ۔۔۔ (مسند ربیعہ بن کعب الاسلمی ) میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا مجھے ایک زمین عطیہ میں دی گئی اور ابوبکر (رض) کو ایک زمین دی گئی دنیا اگئی ہم نے آپس میں اختلاف کیا ایک کھجور پر ابوبکر (رض) نے کہا یہ میری حد میں ہے میں نے کہا میری حد میں میرے اور ابوبکر (رض) کے درمیان کچھ آوازیں بلند ہوگئیں ابوبکر (رض) نے ایک ناپسندیدہ کہا پھر اس پر نادم ہوئے مجھ سے فرمایا اے ربیعہ تو بھی مجھے ایساکلمہ کہدے تاکہ بدلہ برابر ہوجائے میں نے کہا میں ایسا نہیں کرونگا ابوبکر (رض) نے فرمایا تو بدلہ لے یا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے پاس بلاکر لاؤنگا میں نے کہا میں ایسا نہیں کرونگا بیان کیا ابوبکر (رض) زمین چھوڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ گیا بنو اسلم کے بھی کچھ لوگ حاضر ہوئے انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے کس بنیاد پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمہارے خلاف مدد طلب کررہا ہے انھوں نے خود ہی تو جو کچھ کہنا تھا کہ دیا میں نے کہا جانتے بھی ہو یہ کون ہیں ؟ یہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں وہ ثانی اثنین ہیں وہ اسلام میں سب سے قدیم ہیں تو احتیاط کوا گروہ دیکھے کہ تم ان کے خلاف میری مدد کررہے ہو تو وہ ناراض ہوں گے ان کے ناراض ہونے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوں گے اور ان دونوں کے ناراض ہونے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا اس طرح ربیعہ ہلاک ہوجائے گا انھوں نے کہا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کیا تم واپس چلے جاؤ ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے میں بھی اکیلا پیچھے پیچھے پہنچ ہوگیا انھوں نے پورا واقعہ بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف سر اٹھایا اور پوچھا اے ربیعہ تمہارا صدیق اکبر (رض) کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ایسا ایسا ہوا اس دور انھوں نے مجھے ایک ناپسندیدہ کلمہ کہا پھر مجھ سے فرمایا تم بھی مجھے ایس کہہ لو تاکہ بدلہ ہوجائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں تمہیں جواب میں ویسا کلمہ نہیں کہنا چاہیے البتہ کہو غفر اللہ لک یا ابابکر اے ابوبکر اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے ابوبکر (رض) روئے ہوئے واپس چلے گئے۔ (طبرانی بروایت ربیعہ اسلمی)