hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35693

.

كنز العمال

35693
Kanz al-Ummal
35684- عن أبان بن عثمان الأحمر عن أبان بن تغلب عن عكرمة عن ابن عباس قال حدثني علي بن أبي طالب من فيه قال،لما أمر الله تعالى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعرض نفسه على قبائل العرب خرج وأنا معه وأبو بكر فدفعنا إلى مجلس من مجالس العرب، فتقدم أبو بكر وكان مقدما في كل خير وكان رجلا نسابة فسلم وقال: ممن القوم؟ قالوا: من ربيعة، قال: وأي ربيعة أنتم؟ من هامها أم لهازمها فقالوا: من الهامة العظمى، فقال أبو بكر: وأي هامتها العظمى أنتم؟ قالوا: من ذهل الأكبر، قال: منكم عوف الذي يقال له لا حر بوادي عوف؟ قالوا: لا، قال: فمنكم جساس بن مرة حامي الذمار مانع الجار؟ قالوا: لا، قال: فمنكم بسطام بن قيس أبو اللواء ومنتهى الأحياء؟ قالوا: لا، قال: فمنكم الحوفزان قاتل الملوك وسالبها أنفسها؟ قالوا: لا، قال: فمنكم المزدلف صاحب العمامة الفردة؟ قالوا: لا، قال: فمنكم أخوال الملوك من كندة؟ قالوا: لا، قال: فمنكم أصهار الملوك من لخم؟ قالوا: لا، قال أبو بكر: فلستم من ذهل الأكبر، أنتم من ذهل الأصغر، فقام إليه غلام من بني شيبان حين بقل وجهه فقال: إن على سائلنا أن نسأله ... والعبء لا تعرفه أو تحمله يا هذا! إنك قد سألتنا فأخبرناك ولم نكتمك شيئا فمن الرجل؟ قال أبو بكر: أنا من قريش: فقال الفتى: بخ بخ من أهل الشرف والرئاسة! فمن أي القرشيين أنت؟ قال: من ولد تيم بن مرة، فقال الفتى: أمكنت والله الرامي من سواء الثغرة، أمنكم قصي الذي جمع القبائل من فهر فكان يدعى في قريش مجمعا؟ قال: لا، قال: فمنكم هاشم الذي هشم الثريد لقومه ورجال مكة مسنتون عجاف؟ قال: لا، قال: فمنكم شيبة الحمد عبد المطلب مطعم طير السماء الذي كأن وجهه القمر يضيء في الليلة الداجية الظلماء؟ قال: لا، قال: فمن أهل الإفاضة بالناس أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الحجابة أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل السقاية أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الندوة أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الرفادة أنت؟ قال: لا، فاجتذب أبو بكر زمام الناقة راجعا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الغلام: صادف درء السيل درءا يدفعه ... بهيضه حينا وحينا يصدعه أما والله! لو ثبت لأخبرتك من قريش؛ فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال علي: فقلت: يا أبا بكر! لقد وقعت من الأعرابي على باقعة، قال: أجل يا أبا حسن! ما من طامة إلا وفوقها طامة والبلاء مؤكل بالمنطق. ثم دفعنا إلى مجلس آخر عليهم السكينة والوقار فتقدم أبو بكر فسلم فقال: ممن القوم؟ قالوا من شيبان بن ثعلبة، فالتفت أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: بأبي أنت وأمي! هؤلاء غرر الناس، وفيهم مفروق بن عمرو وهانيء بن قبيصة والمثنى بن حارثة والنعمان بن شريك، وكان مفروق قد غلبهم جمالا ولسانا وكانت له غديرتان تسقطان على تريبته وكان أدنى القوم مجلسا؛ فقال أبو بكر: كيف العدد فيكم؟ فقال مفروق: إنا لنزيد على ألف ولن يغلب ألف من قلة، فقال أبو بكر: وكيف المنعة فيكم؟ فقال المفروق: علينا الجهد ولكل قوم جد، فقال أبو بكر: كيف الحرب بينكم وبين عدوكم؟ فقال مفروق: إنا لأشد ما نكون غضبا حين نلقى، وإنا لأشد ما نكون لقاء حين نغضب، وإنا لنؤثر الجياد على الأولاد، والسلاح على اللقاح، والنصر من عند الله يديلنا مرة ويديل علينا أخرى، لعلك أخو قريش؛ فقال أبو بكر: قد بلغكم أنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ألا هو ذا! فقال مفروق: بلغنا أنه يذكر ذاك فإلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس وقام أبو بكر يظله بثوبه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أدعوكم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وإلى أن تؤوني وتنصروني، فإن قريشا قد ظاهرت على أمر الله وكذبت رسله واستغنت بالباطل عن الحق والله هو الغني الحميد"، فقال مفروق بن عمرو إلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فوالله؟ ما سمعت كلاما أحسن من هذا؛ فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ} إلى {فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} ، فقال مفروق، وإلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فوالله ما هذا من كلام أهل الأرض! فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْأِحْسَانِ} إلى قوله: {لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} فقال مفروق بن عمرو: دعوت والله يا أخا قريش إلى مكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال! ولقد أفك قوم كذبوك وظاهروا عليك - وكأنه أحب أن يشركه في الكلام هانيء بن قبيصة فقال: وهذا هانيء شيخنا وصاحب ديننا! فقال هانيء: قد سمعت مقالتك يا أخا قريش! إني أرى إن تركنا ديننا واتبعناك على دينك لمجلس جلسته إلينا ليس له أول ولا آخر إنه زلل في الرأي وقلة نظر في العاقبة، وإنما تكون الزلة مع العجلة، ومن ورائنا قوم نكره أن نعقد عليهم عقدا ولكن نرجع وترجع وننظر وتنظر - وكأنه أحب أن يشركه المثنى بن حارثة فقال: وهذا المثنى بن حاثة شيخنا وصاحب حربنا! فقال المثنى بن حارثة: سمعت مقالتك يا أخا قريش! والجواب فيه جواب هانيء بن قبيصة، وتركنا ديننا ومتابعتك على دينك، وإنا إنما نزلنا بين ضرتي اليمامة والسمامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما هاتان الضرتان"؟ فقال: أنهار كسرى ومياه العرب، فأما ما كان من أنهار كسرى فذنب صاحبه غير مغفور وعذره غير مقبول، وأما ما كان مما يلي مياه العرب فذنب صاحبه مغفور وعذره مقبول، وإنا إنما نزلنا على عهد أخذه علينا أن لا نحدث حدثا ولا نؤوي محدثا، وإني أرى أن هذا الأمر الذي تدعونا إليه يا أخا قريش مما تكره الملوك، فإن أحببت أن نؤويك وننصرك مما يلي مياه العرب فعلنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أسأتم في الرد إذ أفصحتم بالصدق وإن دين الله به لن ينصره إلا من حاطه من جميع جوانبه، أرأيتم أن لا تلبثوا إلا قليلا حتى يورثكم الله أرضهم وديارهم وأموالهم ويفرشكم نساءهم، أتسبحون الله وتقدسونه؟ فقال النعمان بن شريك: اللهم فلك ذلك! فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً وَدَاعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجاً مُنِيراً} ثم نهض رسول الله صلى الله عليه وسلم قابضا على يدي أبي بكر وهو يقول: يا أبا بكر! أية أخلاق في الجاهلية ما أشرفها بها يدفع الله بأس بعضهم عن بعض وبها يتحاجزون فيما بينهم، فدفعنا إلى مجلس الأوس والخزرج فما نهضنا حتى بايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سر بما كان من أبي بكر ومعرفته بأنسابهم. "ابن إسحاق في المبتدأ، عق وأبو نعيم، هق معا في الدلائل، خط في المتفق، قال عق: ليس لهذا الحديث بطوله وألفاظه أصل، ولا يروى من وجه يثبت إلا شيء يروى في مغازي الواقدي وغيره مرسل، وقد روى داود العطار عن ابن خثيم عن أبي الزبير عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لبث عشر سنين يتبع الحاج في منازلهم في الموسم - فذكر الحديث بجلاف لفظ أبان ودونه في الطول وهو أولى من حديث أبان بن عثمان - انتهى، وقال ق: قال الحسن بن صاحب: كتب عني هذا الحديث أبو حاتم الرازي، قال ق: وقد رواه أيضا محمد بن زكريا الغلابي وهو متروك عن شعيب بن واقد عن أبان بن عثمان فذكره بإسناده ومعناه، وروي أيضا بإسناد آخر مجهول عن أبان بن تغلب - انتهى".
35684 ۔۔۔ ابابن عثمان الاحمرابان بن تغلب سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اپنے آپ کو قبائل کے سامنے پیش کریں یعنی ان سے اپنی حفاظت ونصرت طلب کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے میں اور ابوبکر (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے ہم عرب کی مجالس میں سے ایک مجلس میں گئے تو ابوبکر (رض) آگے پڑھے وہ ہر خبر کے کام میں آگے بڑھنے والے تھے اور وہ نسب جاننے والے شخص تھے جاکر سلام کیا اور پوچھا کس قبیلہ سے تعلق ہے لوگوں نے بتایا ربیعہ سے پوچھا ربیعہ کی کس شاخ سے تعلق ہے ؟ ھام سے یاھازم سے لوگوں نے بتایا ھامة العظمی سے ابوبکر (رض) نے پوچھا کس ھامة العظمی سے تعلق ہے لوگوں نے بتایا ذھل اکبر سے پوچھا کیا وہ عوف جس کو لوگ وادی کا سب سے قابل شخص بتاتے ہیں اس کا تعلق تمہارے قبیلہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا کیا حساس ابن مرہ جو نگرانی کرنے والا پڑوس کی حفاظت کرنے والا ہے اس کا تعلق تمہارے قبیلہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں کیا بطام بن قیس جو صاحب جھنڈا ہے اور قبیلہ کا سردار ہے اس کا تعلق تم سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں کیا جو فزاں جو بادشاہ کا قاتل ہے اور ان کے نفوس چھیننے والا اس کا تعلق تم سے ہے لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا مردلف جو یکتا عمامہ کا مالک ہے اس کا تعلق تم سے ہے ان لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا کیا کندہ کے بادشاہوں کے ماموں کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں پوچھا نحم کے بادشاہوں سسرال تم میں سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا تمہارا تعلق ذھل اکبر سے نہیں بلکہ ذھل الفر سے ہے تو نبی شیبان کا ایک لڑکا جس کی ابھی داڑھی نکل رہی تھی وہ کھڑا ہوا اور کہا۔ (ان علی سائلنا ان نسالہ والعیب لاتعرفہ اوتحملہ) اے شخص تم نے ہم سے تفصیلات معلوم کیں ہم نے تفصیلات بتلا دی ہیں کوئی چیز ہم نے نہیں چھپائی آپ بتائیں آپ کون ہیں بتایا میں ابوبکرہوں قریش سے میرا تعلق ہے اس جوان نے کہا بس بس شرافت والے ہو اور ریاست والے جوان نے پوچھا قریش کی کس شاخ سے آپ کا تعلق ہے بتایا ہم ابن مرو سے جوان نے کہا واللہ تمہیں تو دانت کے درمیان تیرپھینکنے پر قدرت حاصل ہے پوچھا قصی تم ہی میں سے ہے جس نے فہر کے قبائل کو جمع کیا جس کو قریش مجمعا کے نام سے یاد کرتے ہیں کہا نہیں پھر پوچھا ہاشم جو قوم کے لیے ثرید بنایا کرتا تھا جب کہ اہل قحط سالی اور تنگ دستی میں بتلا تھے ان کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں بھر پوچھا شیبة الحمد عبدالمطلب جو آسمان پرندہ کو غذا کھلاتا جس کا چہرہ چاند کی طرح ہے یعنی اندھیری رات میں چمکتا ہے ان کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں پوچھا کیا تمہارا تعلق اہل حجابہ سے ہے فرمایا نہیں پوچھا تمہارا تعلق اہل سقایہ سے ہے بتایا نہیں کیا اہل ندوة سے تمہارا تعلق ہے ؟ بتایا نہیں پوچھا اہل رفادہ سے تمہارا تعلق ہے بتایا نہیں ابوبکر (رض) نے اونٹ کا لگام پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے جاناچاہا تو لڑکے نے کہا۔ ھادف درء السیل دراء بھضہ حینا وحینا لیصدعہ تو ابوبکر (رض) نے کہا اگر وہ ٹھہرجاتا تو اس کو یارسول اللہ آپ کے بارے میں بتانا آپ کا تعلق قریش سے ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔ علی (رض) نے کہا اے ابوبکر آپ کو بہت ہوشیار بدوی سے سابقہ پڑا ہے تو فرمایا ہاں اے ابوالحسن ہر بڑی اہم بات پر مطلع ہونا یہ ایک مستقل مصیبت ہے بلاء بندھی ہوئی ہے گویائی کے ساتھ پھر ہم دوسری مجلس کی طرف جن پر سکینت اور وقار چھایا ہوا تھا گئے ابوبکر (رض) نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا آپ کہاں کے ہیں بتایا ہمارا تعلق شیبان ثعلبہ سے ہے ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہو کر کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ شریف لوگ ہیں ان میں مفروق بن عمروھائی بن قبیصہ ہثنی بن حارثہ نعمان بن شریک مفسروق حسن جمال اور فصاحت لسانی کے لحاظ سے ان پر فائق تھا ان کے بالوں کے دولٹھے تھے جو سینہ پر گرتے تھے اور قوم کی مجلس کے آخر میں بیٹھے ہوئے ہیں ابوبکر (رض) نے پوچھا تمہاری تعداد کتنی ہے ؟ مفروق نے کہا ہماری تعداد ہزار سے زیادہ ہے ایک ہزار قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھاتے ابوبکر (رض) نے پوچھا تمہارا حفاظت کا نظام کیسا ؟ مفروق نے کہا ہم اس کی خاطر مشقت برداشت کرتے ہیں جب کہ ہر قوم کوشش کرتی ہے ابوبکر (رض) نے پوچھا اور تمہارے دشمنوں سے لڑائی کا کیا حال ہے ؟ مفروق نے کہا ہم مقابلہ کے وقت سخت غضبناک ہوتے ہیں اور ہم غصہ کے وقت سخت مقابلہ کرتے ہیں اور ہم عمدہ گھوڑوں کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے ہیں اسلحہ کو دودھ والی اونٹنی پر اور اللہ کی مدد کبھی ہمیں غالب کرتی ہے اور کبھی ہم مغلوب ہوئے ہیں شاید آپ قریشی بھائی ہیں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا تمہیں خبر پہنچی ہے کہ اللہ کا رسول مبعوث ہوا ہے وہ یہ ہیں رسول اللہ آگے بڑھے اور بیٹھ گئے ابوبکر (رض) ان پر اپنے کپڑے سے سا یہ کئے ہوئے تھے رسول اللہ نے فرمایا میں تمہیں دعوت دیتاہوں اس کی شہادت دو لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ اور اس کی دعوت دیتاہوں مجھے پناہ دو اور میری مدد کرو کیونکہ قریش نے تو اللہ کے حکم کا مقابلہ کیا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور باطل کو لے کر حق سے استغناء ظاہر کیا اللہ تعالیٰ ہی غنی اور حمید ہے مفروق بن عمر نے پوچھا آپ کن باتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اے قریشی بھائی اللہ کی قسم میں نے اس کلام سے عمدہ کلام نہیں سنارسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :۔ قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم۔۔۔ (الی) فتفرق بکم عن سبیلہ ذالکم وصاکم بہ لعلکم تتقون مفروق نے کہا کن باتوں پر عمل کی دعوت دیتے ہیں اے قریشی بھائی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ان اللہ بامر لعدل والاحسان الی قولہ لعلم تذکرون تو مفروق بن عمرو نے کہا اے قریشی بھائی واللہ تم تو عمدہ اخلاق والے اعمال کی دعوت دیتے ہو اس قوم نے بہتان باندھا جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کی مخالفت کی مفروق نے اس بات کو پسند کیا کہ ھانی بن قبیصہ کو بھی اس کلام میں شریک کیا جائے کہا یہ حانی ہمارے شیخ اور آپ ہمارے ساتھی ہیں بھائی نے کہا اے قریشی بھائی میں نے آپ کا کلام سنا ہے میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنا دین چھوڑ کر آپ کی اتباع کی صرف ایک مجلس سے جو اول اور آخری نہیں ہے تو یہ رائے میں لغذرا سے انجام پر قلت نظر ہوگی جلد بازی میں نضرش ہوتی ہے ہمارے علاوہ بھی قوم کے افراد ہیں ایک دم سے ان کو کسی راستے پر باندھ دینا پسندیدہ بات نہیں لیکن آپ بھی لوٹ جائیں ہم بھی لوٹ جاتے ہیں ہم بھی سوچیں آپ بھی سوچیں وہ مثنی کو بھی شریک کرنا چاہتے تھے کہا یہ مثنی بن حارثہ ہے جو ہمارے شیخ ہیں اور ہماری لڑائی کے امور کے ماہر ہیں۔ مثنی بن حارثہ نے کہا اے قریشی بھائی میں نے آپ کی گفتگو سنی ہے میرا بھی وہی جواب ہے جو ھانی بن قبیصہ کا ہے اگر ہم نے اپنا دین چھوڑ کر آپ کا دین اختیار کرلیا تو گویا کہ ہم نے اپنے آپ کو سمامہ اور سمامہ کے دوضرتین میں اتاردیا یارسول اللہ نے پوچھا ضرتان کیا چیز ہے بتایا کسری کی نہر اور عرب کے پانی کا چشمہ جو انہار کسری میں سے ہے اس گناہ کے مرتکب کی مغفرت نہ ہوگی اور اس کا عذر مقبول نہ ہوگا اور عرب کے چشمہ کے قریب ہے اس گناہ کے مرتکب کی مغفرت بھی ہوگی اور اس کا عذر قبول بھی ہوگا ہم ایک معاہدہ پر قائم ہیں نہ کوئی بنا حادثہ واقع کریں گے نہ ہی کسی نئے نئے حادثہ والے کو اپنے ہاں جگہ دیں گے میرے خیال میں جس امر کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس بات کو بادشاہ لوگ ناپسند کریں گے اگر آپ اس بات کو پسند کریں کہ ہم آپ کو ٹھکانا دیں اور آپ کی مدد کریں میاہ عرب کے متصل علاقوں میں تو ہم ایسا کرسکتے ہیں تو رسول اللہ نے فرمایا تم نے کوئی برا نہیں کہا جب تم نے سچ بولا اللہ تعالیٰ کے دین کی وہی مدد کرسکتا ہے جو تمام جو انب سے اس کا احاطہ کرے بتلاؤ اگر بہت جلد تمہیں اللہ تعالیٰ زمین اور اس کے مال و دولت کا مالک بنادے اور ان کی عورتوں کو تمہارے نکاح میں دیدے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کروگے ؟ نعمان بن شریک نے کہا اے اللہ ضرور ہم ایساکریں رسول اللہ اس نے یہ آیت کی تلاوت کی : اناارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے وہ یہ فرما رہے تھے جاہلیت کے دور میں بھی کیسے اخلاق ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کسی کو مشرف فرمائیں اللہ تعالیٰ بعض کی جنگ کو بعض سے دفع فرماتے ہیں اسی سے ایکدوسرے کو روکتے ہیں پھر ہم اوس اور خزج کی مجسل میں حاضر ہوئے ہم مجلس ہی میں تھے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرلی میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے نسب دانی پر خوش ہورہے تھے (ابن اسحاق نے مبتداء عقیلی ، ابونعیم ، بیہقی نے اکٹھے دلائل میں خطیب نے متفق میں عقیلی نے کہا اس حدیث کے طویل الفاظ کی کوئی اصل نہیں اور کوئی چیز صحیح سند سے ثابت نہیں مگر بعض باتیں جو واقدمی وغیرہ نے مرسلا روایت کی ہے اور واقد عطاء نے ابن خیثم سے انھوں نے ابی الزبیر سے انھوں نے جابر (رض) سے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس سال تک موسم حج میں وفود کے قیام مگاہوں میں جاتے رہے اور حدیث ذکر کی جو ابان بن عثمان کی روایت سے مختلف ہے انہی بیہقی نے کہا کہ حسن بن صاحب نے کہا کہ یہ روایت مجھ سے لکھی ابوحاتم رازی نے بیہقی نے کہا اس کو روایت کیا ہے محمد بن زکریا غلابی نے وہ متروک ہے شعیب بن واقد سے انھوں نے آبان بن عثمان سے اس کو اسی سند اور معنی کے ساتھ ذکر کیا۔ دوسری مجہول سند کے ساتھ ابان بن تغلب سے مروی ہے انتہیٰ )