35711- عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال: دخلت على أبي بكر في مرضه الذي توفي فيه فسلمت عليه، فقال: رأيت الدنيا قد أقبلت ولما تقبل وهي جائية وستتخذون ستور الحرير ونضائد الديباج وتألمون ضجائع الصوف الأزري كأن أحدكم على حسك السعدان، فوالله لأن يقدم أحدكم فيضرب عنقه في غير حد خير له من أن يسبح في غمرة الدنيا. "طب، حل، وله حكم الرفع لأنه من الاخبار عما - يأتي".
35711 ۔۔۔ حمیدبن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں مرض الموت میں ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ان کو سلام کیا فرمایا میں نے دنیا کو آتے ہوئے دیکھا ہے ابھی آئی نہیں وہ آنے ہی والا ہے تم ریشم کے پردے لٹکاؤ گے ریشمی غلاف اور زری صوف کے بستر پر سونے سے تمہیں تکلیف ہوگی گویا کہ تم میں سے کوئی سعد ان کے کانٹے پر سو رہا ہو اللہ کی قسم تم میں سے کسی کو پیش کیا جائے اور بغیر حد کے اس کی گردن ماردی جائے یہ اس کے حق میں بہتر ہے اس سے کہ وہ دنیا کے زعفران میں تیرے (طبرانی حلیہ یہ مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ آئندہ کی پیش گوئی ہے)