35717- عن عبد الرحمن بن سابط وزبيد بن الحارث ومجاهد قالوا: لما حضر أبا بكر الموت دعا عمر فقال له: اتق الله يا عمر! واعلم أن لله عملا بالنهار لا يقبله بالليل وعملا بالليل لا يقبله بالنهار وإنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق في دار الدنيا وثقله عليهم وحق لميزان يوضع فيه الحق غد أن يكون ثقيلا، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم الباطل في الدنيا وخفته عليهم، وحق لميزان يوضع فيه الباطل غدا أن يكون خفيفا: وإن الله تعالى ذكر أهل الجنة فذكرهم بأحسن أعمالهم وتجاوز عن سيئه، فإذا ذكرتهم قلت: إني لأخاف أن لا ألحق بهم، وإن الله تعالى ذكر أهل النار فذكرهم بأسوأ أعمالهم ورد عليهم أحسنه، فإذا ذكرتهم قلت: إني لأخاف أن أكون مع هؤلاء وذكر آية الرحمة وآية العذاب فيكون العبد راغبا راهبا ولا يتمنى على الله غير الحق ولا يقنط من رحمته ولا يلقي بيديه إلى الهلكة. فإن أنت حفظت وصيتي فلا يك غائب أحب إليك من الموت وهو آتيك، وإن أنت ضيعت وصيتي فلا يك غائب أبغض إليك من الموت ولست بمعجزه. "ابن المبارك، ش وهناد وابن جرير، حل".
35717 ۔۔۔ عبدالرحمن بن سابط زبیدبن حارث اور مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کی جب وفات کا وقت قریب ہواتوعمر (رض) کو بلایا اور فرمایا اے عمر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا جان لو اللہ کے لیے کچھ عمل دن کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو رات میں قبول نہیں فرماتے اور کچھ عمل رات کے ہیں ان کو دن میں قبول نہیں فرماتے وہ نقل کو اس وقت تک قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ فرض اداکرے قیامت کے دن جن لوگوں کے میزان عمل وزنی ہوگا وہ دنیا میں حق کی اتباع سے ہوگا اور ان پر بھاری ہونے کی وجہ سے ہوگا اور میزان کا حق ہے کہ جب اس پر حق رکھاجائے تو بھاری ہوجائے اور جنکے ترازوں ہلکے ہوں گے وہ ان کے باطل کی اتباع کی وجہ سے ہوگا اور ترازو کے ان پر ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوگا اور ترازو کا حق ہے وہ ہلکا ہو جب اس پر باطل رکھاجائے اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا تذکرہ فرمایا ہے ان کا تذکرہ ان کے اعمال حسنہ اور برائیوں سے درگذر کرنے کی وجہ سے ہے جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو یہی تو مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ میں ان سے مل سکوں گا اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا تذکرہ فرمایا ان کے برے اعمال کا تذکرہ فرمایا اور ان پر رد فرمایا اچھی طرح رد کرنا جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو مجھے یہی اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی طرح نہ ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے آیت رحمت اور آیت عذاب کو ذکر فرمایا تاکہ بندہ اللہ کی رحمت کی طرف رغبت کرے اور اللہ عذاب سے خوف کھائے اللہ تعالیٰ سے ناحق تمنا نہ کرے اور ال کی رحمت سے ناامید نہ ہوا اور اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالے اگر آپ نے میری وصیت یاد کرلی تو موت سے زیادہ کوئی غائب چیز تجھے محبوب نہ ہوگی وہ موت تجھ کو آنے والی ہے اور اگر آپ نے میری وصیت کو ضائع کردیاتو کوئی غائب چیز موت سے زیادہ مبغوض نہ ہوگی اور آپ موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (ابن المبارک ابن ابی شیبة ھناد ابن جریر حلیة الاولیاء)