35718- عن عائشة قالت: لما حضر أبو بكر قلت:لعمرك ما يغني الثراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصدر
فقال أبو بكر: لا تقولي هكذا يا بنية ولكن قولي: {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} وقال: انظروا ثوبي هذين فاغسلوهما ثم كفنوني فيهما، لأن الحي أحوج إلى الجديد من الميت، إنما هو للمهلة "حم في الزهد وابن سعد وأبو العباس ابن محمد بن عبد الرحمن الدغولي في معجم الصحابة، ق".
35718 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کو موت حاضر ہوئی تو میں نے کہا۔ لعمرک مایغنی الثراء عن الفتی اذاحشر جت یوماوضاق بھا الصدر تو ابوبکر (رض) نے کہا اے بیٹی اس طرح مت کہو : اور فرمایا کہ میرے ان دونوں کپڑوں کو لے لو ان کو دھولو پھر ان میں مجھے کفن دو اور زندہ لوگ نئے کپڑوں کے مردوں سے زیادہ حقدار میں یہ تو پیپ وغیرہ کے لیے ہے۔ (احمد فی الزھد وابن سعد وابوالعباس ابن محمد بن عبدالرحمن الدغرلی فی معجم الصحابہ ، بیہقی)