35722- عن يوسف بن محمد قال: بلغني أن أبا بكر الصديق أوصى في مرضه فقال لعثمان: اكتب: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما أوصى به أبو بكر بن أبي قحافة عند آخر عهده بالدنيا خارجا منها وأول عهده بالآخرة داخلا فيها حين يصدق الكاذب ويؤدي الخائن ويؤمن الكافر إني استخلفت بعدي عمر بن الخطاب، فإن عدل فذلك ظني به ورجائي فيه، وإن بدل وجار فلا أعلم الغيب، ولكل امرئ ما اكتسب {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} . "ق".
35722 ۔۔۔ یوسف بن محمد سے روایت ہے کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوبکر (رض) نے اپنے مرض موت میں وصیت کی اور عثمان غنی سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ وہ عہد نامہ ہے جس کو ابوبکر بن ابی قحافہ نے دنیا سے جانے کے آخری وقت اور آخرت میں داخل ہونے کے اول وقت میں لکھوایا جس وقت جھوٹا شخص بھی سچ بولتا ہے اور خیانت کرنے والا بھی حق ادا کردیتا ہے اور کافر ایمان لے آتا ہے یہ کہ میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کردیا اگر وہ انصاف قائم کرے یہ میرا ان کے متعلق گمان اور امید ہے اور اگر اس کو بدل دے اور ظلم کرنے لگے تو مجھے علم غیب حاصل نہیں ہر شخص سے اسی کا سوال ہوگا جو اس نے ارتکاب کیا آیت ہے وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (بیہقی)