hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35732

.

كنز العمال

35732
Kanz al-Ummal
35723- عن عائشة قالت: لما اشتد مرض أبي بكر بكيت وأغمى عليه فقلت:من لا يزال دمعه مقنعا ... فإنه من دفعه مدفوف فأفاق فقال: ليس كما قلت يا بنية ولكن {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} . ثم قال: أي يوم توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: يوم الاثنين، فقال: أي يوم هذا؟ فقلت: يوم الاثنين، قال: فإني أرجو من الله ما بيني وبين هذا الليل، فمات ليلة الثلاثاء، فقال: في كم كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: كفناه في ثلاثة أثواب سحولية بيض جدد ليس فيها قميص ولا عمامة، فقال لي: اغسلوا ثوبي هذا وبه ردع من زعفران واجعلوا معه ثوبين جديدين، فقلت: إنه خلق، قال: الحي أحوج إلى الجديد من الميت، إنما هو للمهلة. "ع وأبو نعيم والدغلولي، ق وروى مالك قصة التكفين".
35723 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی بیماری بڑھ گئی میں اس پر روئی ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو میں نے کہا۔ من لا یزال دمعہ مقنعا فانہ من دفعہ مدفوف جس کا آنسو نہ تھمے قناعت کرے تو اس کے دور کرنے سے تھم جائے گا پھر ان کو افاقہ ہوا تو فرمایا اے بیٹی بات ایسی نہیں جیسے تم نے کہا : لکن جاءت سکرة الموت بالحق ذلک ماکنت منہ تحید پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن وفات پائی بتایا پیر کے دن پوچگا آج کونسا دن ہے بتایا پیر کا دن فرمایا مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میرے اور اللہ سے ملاقات کے درمیان ایک ہی رات حائل ہے تو منگل کی رات کو انتقال فرمایا پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا میں نے کہا تین معمولی کپڑوں میں جو نئے سفید رنگ کے تھے اس میں قمیص عمامہ نہیں تھا پھر فرمایا میرے کپڑے کو دھولو اس میں زعفرانی رنگ لگا ہوا ہے اس کے ساتھ دو نئے کپڑے اور ملالو میں نے کہا یہ کپڑا پرانا ہے تو فرمایا زندہ لوگ نیا کپڑا پہننے کے مردوں سے زیادہ حقدار ہیں یہ کفن تو پیٹ لہو کے لیے ہے (ابویعلی و ابونعیم والد غولی ، بیہقی اور مالک نے تکفین کا قصہ بھی نقل کیا ہے)