hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35739

.

كنز العمال

35739
Kanz al-Ummal
35730- عن سعيد بن المسيب قال: لما احتضر أبو بكر الصديق حضره ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا خليفة رسول الله! زودنا فإنا نراك لما بك، قال: كلمات من قالهن حين يمسي ويصبح جعل الله روحه في الأفق المبين! قالوا: وما الأفق المبين؟ قال: قاع تحت العرش فيه رياض وأشجار وأنهار يغشاه كل يوم ألف رحمة - أو قال: مائة رحمة - فمن مات على ذلك القول جعل الله روحه في ذلك المكان: اللهم! إنك ابتدأت الخلق بلا حاجة بك إليهم فجعلتهم فريقين: فريقا للنعيم وفريقا للسعير، فاجعلني للنعيم ولا تجعلني للسعير؛ اللهم! إنك خلقت الخلق فرقا وميزتهم قبل أن تخلقهم فجعلت منهم شقيا وسعيدا وغويا ورشيدا، فلا تشقيني بمعاصيك؛ اللهم! إنك علمت ما تكسب كل نفس قبل أن تخلقها فلا محيص لها مما علمت، فاجعلني ممن تستعمله بطاعتك؛ اللهم! إن أحدا لا يشاء حتى تشاء، فاجعل مشيئتك لي أن أشاء ما يقربني إليك، اللهم! إنك قدرت حركات العباد فلا يتحرك شيء إلا بإذنك، فاجعل حركاتي في تقواك، اللهم! إنك خلقت الخير والشر وجعلت لكل واحد منهما عاملا يعمل به، فاجعلني من خير القسمين؛ اللهم! إنك خلقت الجنة والنار وجعلت لكل واحد منهما أهلا، فاجعلني من سكان جنتك، اللهم! إنك أردت بقوم الهدى وشرحت صدورهم وأردت بقوم الضلالة وضيقت صدورهم، فاشرح صدري للإيمان وزينه في قلبي؛ اللهم! إنك دبرت الأمور فجعلت مصيرها إليك، فأحيني بعد الموت حياة طيبة وقربني إليك زلفى، اللهم، من أصبح وأمسى ثقته ورجاؤه غيرك فأنت ثقتي ورجائي، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. قال أبو بكر: هذا كله في كتاب الله عز وجل. "ابن أبي الدنيا في الدعاء".
35730 ۔۔۔ سعید بن مسیّب (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی موت کا وقت قریب ہوا ان کے پاس چند صحابہ کرام (رض) داخل ہوئے اور عرض کیا اے خلیفة الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کچھ توشہ دیدیں کیونکہ ہم آپ کی حالت کو دیکھ رہے ہیں تو فرمایا چند کلمات ہیں جن کو صبح وشام کہنے والے کی روح افق میں ہوگی پوچھا افق میں کیا چیز ہے فرمایا ایک صحن ہے عرش کے نیچے اس میں باغ درخت اور نہریں ہیں جن کو روزانہ ہزار رحمت ڈھانپتی ہے یا کیا سورحمتیں جو موت کے وقت یہ کلمات کہے اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اس مکان تک پہنچائے گا۔ اللھم انک ابتدات الخلق بلا حاجة بک الیھم فجعلتم فریقین فریقا اللنعیم وفر یقا للسعیر فاجعلنی للنعیم ولاتجعلنی للسعیر اللھم انک خلفت الخلق فرقا ومیز تھم قبل ان تخلقھم فجعلت منھم شقیا و سعید اوغری اور سید افلا تشقینی بما صیک اللھم انک علمت ماتکسب کل نفس قبل ان تخلقھا فلا محیص لھا مما علمت فاجعلنی ممن تستعملہ بطاعتک اللھم ان احد الایشاء حتی تشاء فاجعل مشیتک لی ان اشاء مایقربی الیک اللھم انک قدرت حرکات العباد فلایتحرک شئی الا باذنک فاجعل حرکاتی فی تقراک اللھم انک خلقت الخیر والشر وجعلت لکل واحد منھا عاملا یعمل بہ فاجعلنی من خیر القسمین اللھم انک خلقت الجنة والنار وجلعت لکل واحد منھما اھلا فاجعلنی من سکان جنتک اللھم انک اردت بقوم الھدی وشرحت صدورھم واردت یقوم الضلالة وضیقت صدور ھم فاشرح صدری للایمان وزینہ فی قلبی اللھم انک دبرت الامور فجعلت مصبرھا الیک فاحینی بعد الموت حیاة طیبة وقربی الیک زلفی اللھم من اصبح وامسی ثقتہ ورجاء ہ غیرک فانت ثقتی۔ ورجانی ولاحول ولا قرة الا باللہ العلی العظیم ابوبکر (رض) نے کہا یہ سب کچھ کتاب اللہ کا مضمون ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الدعاء) ترجمہ :۔۔۔ اے اللہ آپ نے مخلوق کو پیدا فرمایا آپ کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی آپ نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک فریق کو جنت کے لیے ایک فریق کو جہنم کے لیے اے اللہ مجھے جنتی فریق میں سے بنادے جہنم کے فریق میں سے نہ بنا اے اللہ آپ نے مخلوق کو فرقوں میں تقسیم فرمایا اور مخلوق سے پہلے ہی ان کو تقسیم کیا تھا ان نیک بخت ہدایت یافتہ بنایا اے اللہ مجھے اپنے گناہوں کی وجہ سے بدبخت نہ بنا ، اے اللہ آپ تخلیق سے پہلے ہی ہر شخص کے اعمال سے واقف ہیں آپ کے علم سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو آپ کی طاعت پر عمل کرنے والے ہیں اے اللہ کوئی شخص آپ کی چاہت کے خلاف چاہت نہیں رکھ سکتا ہے اب آپ میرے بارے میں اپنی مشیت اعمال کی کردے جو مجھے آپ کے قریب کردے اے اللہ آپ نے بندوں کے حرکات کو مقدر فرمایا ہے آپ کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت نہیں کرسکتی میری حرکات کو آپ کے تقوی کے مطابق بنادے اے اللہ آپ نے خیر و شر کو پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک پر عمل کرنے والا بھی بنایا ہے اے اللہ آپ مجھے دونوں میں سے خیر پر عمل کرنے والا بنادے اے اللہ آپ نے جنت و جہنم کو پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کے اہل بھی بنایا ہے مجھے جنت کے باسی بنادے اے اللہ آپ کچھ لوگوں کے ساتھ ہدایت کا ارادہ فرماتے ہیں اور ان کے لیے شرح صدر بھی فرماتے ہیں اور ایک قوم کے ساتھ گمراہی کا ارادہ فرمایا ان کے لیے ان کا سینہ تنگ بھی فرمادیا اے اللہ میرے سینہ کو ایمان کے لیے کھول دے اور اس کو میرے دل میں مزین کردے اے اللہ آپ نے امور کی تدبیر فرمایا اور انجام سب کا آپ کے پاس ہے مجھے موت کے بعد حیاة طیبہ نصیب فرما اور مجھے اپنے پاس مرتبہ اور مقام نصیب فرما۔ اے اللہ کچھ لوگوں کے اعتماد اور امید آپ کے غیر پر ہے لیکن آپ ہی پر میرا اعتماد اور امید ہے لاحول ولاقوة الاب اللہ العلی العظیم۔