35732- عن أبي بكر بن حفص بن عمر قال: جاءت عائشة إلى أبي بكر وهو يعالج ما يعالج الميت ونفسه في صدره فتمثلت هذا البيت:لعمرك ما يغني الثراء عن الفتى ... إذ حشرجت يوما وضاق بها الصدر فنظر إليها كالغضبان ثم قال: ليس كذلك يا أم المؤمنين؟ ولكن {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} إني قد كنت نحلتك حائطا وإن في نفسي منه شيئا فرديه إلى الميراث، قالت: نعم، فرددته، أما! إنا منذ ولينا أمر المسلمين لم نأكل لهم دينارا ولا درهما ولكنا قد أكلنا من جريش طعامهم في بطوننا، ولبسنا من خشن ثيابهم على ظهورنا، وليس عندنا من فيء المسلمين قليل ولا كثير إلا هذا العبد الحبشي وهذا البعير الناضح وجرد هذه القطيفة، فإذا مت فابعثي بهن إلى عمر وإبرئي منهن، ففعلت، فلما جاء الرسول عمر بكى حتى جعلت دموعه تسيل في الأرض وجعل يقول: رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده! رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده! يا غلام! ارفعهن، فقال عبد الرحمن بن عوف: سبحان الله! تسلب عيال أبي بكر عبدا حبشيا وبعيرا ناضحا وجرد قطيفة ثمن خمسة الدراهم، قال: فما تأمر؟ قال: تردهن على عياله، فقال: لا والذي بعث محمدا بالحق! أو كما حلف لا يكون هذا في ولايتي أبدا ولا خرج أبو بكر منهن عند الموت وأردهن أنا على عياله، الموت أقرب من ذلك. "ابن سعد".
35732 ۔۔۔ ابوبکر بن حفص بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) ابوبکر (رض) کے پاس آئیں وہ اے ہچکیاں لے رہے تھے ۔ جیسے مردلیتے ہیں ان کا سرمیری گود میں تھا میں نے یہ شعرپڑھا : لعمر ک مایغنی الثراء عن الفتی اذا حشر جت بوما وضاق بھا الصدر تیری زندگی کی قسم جوان کو مال فائدہ نہیں دیتاجب کسی دن ان پر غرغرہ کا وقت آجائے اور ان کا سینہ تنگ ہونے لگے تو ابوبکر (رض) نے غصہ سے میری طرف دیکھا ایسا نہیں ہے اے ام المومنین ! ولکن جاءت سکرة الموت بالحق یعنی آئی اور موت کی بیہوشی تحقیق جس سے تو ملتا رہتا ہے میں نے تمہیں ایک باغ ھبہ کیا تھا مجھے اس سے دل میں کچھ اضطراب ہے اس لیے اس کو میری میراث میں شامل کردیں میں نے کہا ہاں اس کو میں نے واپس کردیا جب ہم مسلمانوں کے امور کے ذمہ دار ہوئے ہم نے ان کا کوئی درھم و دینار نہیں کھایا ہم اپنے پیٹ میں ان کا بچاہوا کھانا ہی ڈالا ہے اور کھردرالباس پہنا اپنے جسم پر ہمارے پاس مسلمانوں کی غنیمت میں سوائے اس حبش غلام اور پانی لانے کے اونٹ اور بھئی ہوئی چادر کے کوئی چھوٹی بڑی چیز نہیں ہے جب میرا انتقال ہوجائے ان کی عمر (رض) کے پاس بھیج کر مجھے بری کردینا میں نے ایسا ہی کیا جب قاصد سامان لے کر عمر (رض) کے پاس پہنچا تو وہ روپڑے حتی کہ ان کے آنسوزمین پر بہنے لگے اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ابوبکر (رض) پر رحم فرمائے انھوں نے اپنے بعد کے خلفاء کو تھکا دیا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے انھوں نے تو اپنے بعد کے خلفاء کو تھکا دیا پھر فرمایا اے غلام انکواٹھالو عبدالرحمن بن عوف (رض) نے سبحان اللہ کہا آپ ابوبکر کے گھر والوں کا ایک حبشی غلام اور پانی لانے کے لیے اونٹ ایک پرانی چادر جس کی قیمت پانچ درہم ہیں لیتے ہو پوچھا آپ کا کیا حکم ہے فرمایا ان کو واپس کردیں ابوبکر کے گھروالوں کو تو عمر (رض) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق دے کر بھیجا ایسانہ ہوگا یا ایسا ہی کوئی قسم کھا کر کہا میری سلطنت میں ایسا ہرگز نہ ہوگا ابوبکر (رض) موت کے وقت انھیں نکالیں میں ان کے گھروالوں پر ان کو واپس کروں موت اس سے زیادہ قریب ہے۔ (ابن سعد)