hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35742

.

كنز العمال

35742
Kanz al-Ummal
35733- "مسند حويطب بن عبد العزى" عن عبد الرحمن ابن أبي سفيان بن حويطب عن أبيه عن جده قال: قدمت من عمرتي فقال لي أهلي: أعلمت أن أبا بكر بالموت؟ فأتيته في ثياب سفري فأجده لما به، فقلت: السلام عليك! فقال: وعليك السلام - وعيناه تذرفان، فقلت: يا خليفة رسول الله! كنت أول من أسلم، وثاني اثنين في الغار، وصدقت هجرتك، وحسنت نصرتك، ووليت المسلمين فأحسنت صحبتهم واستعملت خيرهم، قال: وحسن ما فعلت "قلت: نعم، قال: فأنا لله والله أشكر له وأعلم ولا يمنعني ذلك من أن أستغفر الله، فما خرجت حتى مات". "كر وقال: هذا الحديث شبيه بالمسند، قال وإنما أخرجته لأني أعلم له حديثا مسندا سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم، قال ابن معين: لا أحفظ عن حويطب بن عبد العزى عن النبي صلى الله عليه وسلم شيئا".
35733 ۔۔۔ (مسند جو یطب بن عبدالعزی ) عبدالرحمن بن ابی سفیان بن حویطب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں عمرہ سے واپس آیا تو میرے گھر والوں نے کہا آپ کو ابوبکر (رض) کی موت کا علم ہے میں سفر کے کپڑوں میں ہی ان کے پاس حاضر ہوا اور انھیں بیماری کی حالت میں پایا میں نے سلام کیا تو انھوں نے وعلیکم السلام کہا اور ان کی آنکھیں ڈبڈبارہی تھیں میں نے کہا اے خلیفہ رسول آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور غارثور کے ساتھی ہیں اور سچی ہجرت کی اور عمدہ نصرت کی اور مسلمانوں پر حکومت ملی تو ان کی صحت کو عمدہ طریقہ سے ٹمٹمایا ان پر اچھی حکومت کی پوچھا میں نے اچھائی کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں ! فرمایا اس پر اللہ کا شکرگذار ہوں اور میں جانتا ہوں کہ اس کے باوجود استغفار سے کوئی چیز مانع نہیں میں ابھی ان کے پاس سے نکلا ہی نہ تھا ان کا انتقال ہوگیا ۔ (ابن عساکر اور کہا یہ حدیث مسند کے مشابہ ہے اور کہا میں نے اس کو اس لیے ذکر کیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کی ایک مسند حدیث بھی ہے جس کو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ابن معین نے کہا حویطب بن عبدالعزی کی کوئی مرفوع روایت مجھے یاد نہیں۔