35734- عن أسيد بن صفوان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لما توفي أبو بكر سجوه ثوبا وارتجت المدينة بالبكاء ودهش الناس كيوم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء علي بن أبي طالب مسرعا باكيا مسترجعا وهو يقول: اليوم انقطعت خلافة النبوة - حتى وقف على باب البيت الذي فيه أبو بكر ثم قال: رحمك الله أبا بكر! كنت أول القوم إسلاما وأخلصهم إيمانا وأكثرهم يقينا وأعظمهم غنى وأحدبهم على الإسلام وأحوطهم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وآمنهم على أصحابه وأحسنهم صحبة وأعظمهم مناقب وأكثرهم سوابق وأرفعهم درجة وأقربهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأشبههم به هديا وسمتا وخلقا ودلا وأشرفهم منزلة وأكرمهم عليه وأوثقهم عنده، فجزاك الله عن الإسلام وعن رسوله وعن المسلمين خيرا! صدقت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين كذبه الناس فسماك رسول الله صلى الله عليه وسلم صديقا، قال الله تعالى: {جَاءَ بِالصِّدْقِ} يعني محمدا {وَصَدَّقَ بِهِ} يعني أبا بكر وآسيته حين بخلوا، وكنت معه حين قعدوا، صحبته في الشدة أكرم صحبة، ثاني اثنين في الغار والمنزل، رفيقه في الهجرة ومواطن الكرة، خلفته في أمته بأحسن الخلافة حين ارتد الناس، وقمت بدين الله قياما لم يقمه خليفة نبي قبلك، قويته حين ضعف أصحابه، وبرزت حين استكانوا، ونهضت حين وهنوا، ولزمت منهاج رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت خليفته حقا لم تنازع برغم المنافقين وطعن الحاسدين وكره الفاسقين وغيظ الكافرين، فقمت بالأمر حين فشلوا، ومضيت بنور الله حين وقفوا، واتبعوك فهدوا، كنت أخفضهم صوتا وأعلاهم خوفا وأقلهم كلاما وأصوبهم منطقا وأشدهم يقينا وأشجعهم قلبا وأحسنهم عقلا وأعرفهم بالأمور، كنت والله للدين يعسوبا أولا حين تفرق الناس عنه وآخرا حين فلوا، كنت للمؤمنين أبا رحيما إذ صاروا عليك عيالا فحملت أثقالا عنها ضعفوا، وحفظت ما أضاعوا، ورعيت ما أهملوا، وشمرت إذ خنعوا ، وصبرت إذ جزعوا، فأدركت أوتار ما طلبوا، ونالوا بك ما لم يحتسبوا، كنت على الكافرين عذابا صبا، وللمؤمنين غيثا وخصبا، ذهبت بفضائلها، وأحرزت سوابقها، لم تفلل حجتك ولم تضعف بصيرتك، ولم تجبن نفسك ولم تخن، كنت كالجبل لا تحركه العواصف، ولا تزيله الرواجف، كنت كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أمن الناس في صحبتك وذات يدك، وكما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ضعيفا في بدنك قويا في أمر الله، متواضعا في نفسك عظيما عند الله، كبيرا في الأرض جليلا عند المؤمنين، ثم لم يكن لأحد فيك مهمز، ولا لقائل فيك مغمز ولا لأحد عندك هوادة، والذليل عندك قوي عزيز حتى تأخذ الحق، والقوي العزيز عندك ضعيف حتى تأخذ منه الحق، القريب والبعيد عندك في ذلك سواء، شأنك الحق والصدق، وقولك حكم وحتم، وأمرك غنم وعزم، ثبت الإسلام وسبقت والله سبقا بعيدا، واتعبت من بعدك تعبا شديدا، وفزت بالخير فوزا مبينا، فجللت عن البكاء، وعظمت رزيتك في السماء، وهدت مصيبتك الأنام، والله لا يصاب المسلمون بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثلك، كنت للدين عزا وكهفا، وللمسلمين حصنا، وأنسا، وعلى المنافقين غلظة وغيظا وكظما، فألحقك الله بنبيك صلى الله عليه وسلم ولا حرمنا أجرك ولا أضلنا بعدك وإنا لله وإنا إليه راجعون. "هـ في التفسير والشاشي وأبو زكريا في طبقات أهل الموصل، وأبو الحسن علي بن أحمد بن إسحاق البغدادي في فضائل أبي بكر وعمر، والمحاملي في أماليه، وابن منده، وأبو نعيم في المعرفة واللالكائي في السنة؛ خط في المتفق، كر وابن النجار، ض".
35734 ۔۔۔ اسیدبن صفوان صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کا انتقال ہوا تو ان پر ایک کپڑا ڈالا یا گیا پورے مدینہ میں رونے کا شور بلندہوا لوگ ایسے ہی دہشت زدہ ہوئے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال کے دن ہوا تھا علی بن ابی طالب (رض) روتے ہوئے جلدی سے آئے اور انا لللہ وانا الیہ راجعون پر ھا پھر کہنے لگا آج خلافت نبوت ختم ہوگئی یہاں تک ابوبکر (رض) کے دروازے پر کھڑے ہوگئے پھر کہا اللہ تعالیٰ ابوبکر (رض) نہ رحم فرمائے آپ نے قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور خالص ایمان لائے اور سب سے زیادہ ایمان لائے سب سے زیادہ مالدار اسلام میں سب سے زیادہ بوڑھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے زیادہ نگہبانی کرنے والا صحابہ کرام پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے سب سے زیادہ صحبت اٹھانے والے سب سے زیادہ مقرب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے زیادہ مشابہ سکون وقار اخلاق اور راھبری کے اعتبار سے سب سے زیادہ مرتبہ والے سب سے زیادہ مکرم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے زیادہ بااعتماد اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام صدیق رکھا ارشاد باری تعالیٰ ہے : وجاء بالصدق۔ یعنی محمد سچائی لے کر آئے وصدق بہ یعنی ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اپنے ان کی غمخواری کی جس وقت لوگ غمخواری میں بخل کررہے تھے آپ ان کے ساتھ تھے جب کہ لوگ بیٹھ گئے تھے شدت اور سختی کے موقع پر بھی آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمدہ صحبت اختیار کی غار اور منزل میں دو میں کا دوسرے تھے اور آپ ان کے ساتھی تھے ہجرت موقع اور جہاد کے مواقع پر اور ان کی امت میں آپ نے بہترین طریقہ سے جانشینی کا فریضہ انجام دیا جب لوگ مرتد ہورہے تھے آپ نے اللہ کے دین کو ایسا قائم کیا آپ سے پہلے کسی نبی کے خلیفہ نے ایسا قائم نہیں کیا آپ نے ان کو قوت پہنچائی جب کہ دوسری لوگ کمزوری دکھا رہے تھے آپ ظاہر ہوئے جب کہ دوسری لوگ سست پڑگئے اور آپ کھڑے ہوئے جس وقت دوسرے لوگوں نے بزدلی کی جگہ تھے آپ نے رسول اللہ کے طریقہ کو لازم پکڑا آپ خلیفہ برحق ہوئے منافقین کے علی الرغم حاسدین کے طعن فاسقین کی ناپسندیدگی کفار کے غیظ وغضب کے خلاف آپ دین کو لے کر اس وقت کھڑے ہوئے جس وقت لوگوں کے قدم اکھڑچکے تھے اور آپ نور ہی کی روشنی میں چل رہے ہے جس وقت دوسرے لوگ رک گئے لوگوں نے آپ کی اتباع کی ہدایت پاگئے آپ سب سے پست آواز تھے لیکن سب سے زیادہ رعب والے گفتگو کم کرتے لیکن سب سے دوستی رکھتے یقین میں سب سے سخت دل کے تھے سب سے دوستی رکھتے عقل کے اعتبار سے عمدہ معاملات کو سب سے زیادہ جاننے والے واللہ آپ دین کے لیے اول یعسوب تھے (یعنی دین قائم کرنے والے امیر) جب سب لوگ متفرق تھے اور آخر میں بھی جب لوگوں میں اپنی اعتبار سے دندانے پڑنے شروع ہوگئے اور آپ مومنین کے لیے ایک شفیق باپ تھے جسوقت وہ آپ کے لیے عیال ہوگئے ۔ جب وہ بوجھ اٹھانے سے کمزور ہوگئے تو آپنی ان کا بوجھ اٹھایا اور جس چیز کو لوگوں نے ضائع کیا آپ نے اس کی حفاظت کی اور آپ نے اس کی رعایت کی جس کو لوگوں نے مہمل چھوڑ دیا اور آپ نے اپنے دامن کو اس وقت کساتھ جس وقت لوگ رسواہو رہے تھے اور آپ نے صبر سے کام لیا جس وقت لوگ جزع فزع کررہے تھے آپ نے لوگوں کے مطلوبہ ثانت کو پالیا اور لوگوں کو آپ کی وجہ سے اپنے گمان سے زیادہ ملا آپ کافروں پر برسنے والا عذاب تھے اور مومنین کے لیے خوشحالی لانے والی بارش آپ نے فضائل حاصل کئے سبقت کے میدان سر کرگئے آپ کی حجتوں میں دندانے نہیں پڑے اور آپ کی بصیرت کمزور نہیں ہوئی آپ کے نفس میں نہ بزدلی پیدا ہوئی نہ خیانت کی آپ پہاڑ کی طرح تھے جس کو تیز آندھی ھلا نہیں سکتی تھی طوفان بھی اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا آپ ایسے ہی تھے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بقول جسمانی طورپر کمزور لیکن اللہ کے حکم بجالانے میں مضبوط اپنے نفس میں متواضع اللہ کے ہاں عظیم زمین میں بڑے مومنین کے نزدیک جلالت والے پھر کسی کی طرف آپ پر کوئی الزام نہیں آپ کے بارے میں کوئی بدگوئی کرنے والا نہیں نہ کسی کے ساتھ کوئی خاص رعایت تھی کمزور شخص آپ کے نزدیک باعزت ہے یہاں تک وہ اپنا حق وصول کرلے اور قومی شخص آپ کے نزدیک کمزور ہے یہاں تک آپ اس سے مظلوم کا حق وصول کرلیں اس معاملہ میں رشتہ دار اور غیر رشتے دار دونوں آپ کے نزدیک برابر ہیں آپ کی شان حق صداقت ہے آپ کا حکم حتمی ہے آپ کا حکم غنیمت اور پختہ ہے اسلام ثابت ہوگیا اللہ کی قسم آپ بہت دور چلے گئے اپنے بعد والوں کو خلافت کے معاملہ تعب میں ڈالدیا اور خیر میں آپ نے کھلی کامیابی حاصل کی رونے کو ثابت کردیا تمہاری مصیبت آسمان میں بری ہوئی تمہاری مصیبت نے لوگوں کو خاموش کردیا اللہ کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی جیسی مصیبت مسلمانوں کو لاحق نہیں ہوئی آپ دین کے لیے عزت اور جائے پناہ تھے اور مسلمانوں کے لیے محفوظ قلعہ تھے اور نسبت کا سبب تھے منافقین سخت اور غصہ دلانے اور غصہ پینے کا سبب تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نبی کے ساتھ ملادیا اللہ تعالیٰ آپ کے بعد ہمیں اجر سے محروم نہ فرمائیں اور آپ کے بعد گمراہ نہ فرمائے انا لللہ وانا الیہ راجعون۔ فی التفسیر الشاشی وابو زکریا فی طبقات اھل الموصل وابوالحسن علی بن احمد بن اسحاق البغدادی فی فضائل ابی بکروعمر والمحاملی فی امالیہ وابن مند و ابونعیم فی المعرفہ والالکانی فی اسنة خطیب فی المتفق وابن عساکر ابن النجار الضیاء المقدسی)