35742- عن ابن عباس قال: سألت عمر: لأي شيء سميت "الفاروق"؟ قال: أسلم حمزة قبلي بثلاثة أيام، ثم شرح الله صدري للإسلام فقلت: الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى، فما في الأرض نسمة أحب إلي من نسمة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت أختى: هو في دار الأرقم بن أبي الأرقم عند الصفا، فأتيت الدار وحمزة في أصحابه جلوس في الدار ورسول الله صلى الله عليه وسلم في البيت: فضربت الباب، فاستجمع القوم، فقال لهم حمزة: ما لكم؟ قالوا: عمر بن الخطاب، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بمجامع ثيابي ثم نترني نترة فما تمالكت أن وقعت على ركبتي فقال: "ما أنت بمنته يا عمر"! فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فكبر أهل الدار تكبيرة سمعها أهل المسجد فقلت: يا رسول الله! ألسنا على الحق إن متنا وإن حيينا؟ قال: "بلى"! "والذي نفسي بيده إنكم على الحق إن متم وإن حييتم"! قلت: ففيم الاختفاء؟ والذي بعثك بالحق لتخرجن فأخرجناه في صفين: حمزة في أحدهما وأنا في الآخر، له كديد ككديد الطحين حتى دخلنا المسجد، فنظرت إلي قريش وإلى حمزة، فأصابتهم كآبة لم يصبهم مثلها، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ "الفاروق"، وفرق الله بي بين الحق والباطل. "حل، كر، وفيه أبان بن صالح ليس بالقوى وعنه إسحاق بن عبد الله الدمشقي متروك".
35742 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) سے پوچھا آپ کا نام فاروق رکھنے کی وجہ کیا ہے فرمایا حمزہ (رض) مجھ سے تین دن پہلے مسلمان ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کے لیے کھول دیا میں نے کہا اللہ لاالہ الا ھوالہ اسماء الحسنی تو روئے زمین پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ رہا میں نے پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں میری بہن نے بتایا وہ داراقم میں ہے جو کوہ صفاء کے دامن میں ہے میں اس گھر میں آیا حمزہ (رض) اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو لوگ جمع ہوئے حمزہ (رض) نے پوچھا کیوں جمع ہوگئے ہو بتایا باہر عمر بن خطاب ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمرہ سے باہر تشریف لائے اور میرا گریبان پکڑا مجھے جھٹکاؤ دیا میں گھنٹوں کے بل گرپڑا فرمایا اے عمرتیرے لیے کیا چیز مانع ہے ؟ میں نے کہا اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ رسولہ تو گھر میں موجود افراد نے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سنا میں نے کہا یارسول اللہ ہمیں موت آجائے یا ہم زندہ رہیں ہر صورت میں ہم حق پر ہیں ؟ فرمایا ہاں ضرور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم حق پر ہو تمہیں موت آئے یا زندگی نصیب ہو میں نے کہا ہم چھپ کر کیوں رہیں ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ ضرور باہرنکلا کریں گے ہم نے آپ کو دوصفوں میں نکالا حمزہ ایک صف میں دوسری صف میں اب چلتے ہوئے صفوں سے غبار اڑھ رہے تھے حتی کہ ہم مسجد میں داخل ہوگئے قریش نے میری طرف اور حمزہ (رض) کی طرف دیکھا ان کو سخت غم لاحق ہواجو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اس دن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام فاروق رکھا میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرمایا۔ (حلیب ابن عساکر اس میں ابا ن بن صالح قوی نہیں ہے انہی سے اسحاق بن عبداللہ کی روایت متروک ہے)