35744- عن عمر قال: كنت جالسا مع أبي جهل وشيبة ابن ربيعة، فقال أبو جهل: يا معشر قريش! إن محمدا قد شتم آلهتكم وسفه أحلامكم وزعم أن من مضى من آبائكم يتهافتون في النار، ألا! ومن قتل محمدا فله علي مائة ناقة حمراء وسوداء وألف أوقية من فضة! فخرجت متقلدا السيف متنكبا كنانتي أريد النبي صلى الله عليه وسلم، فمررت على عجل يذبحونه فقمت أنظر إليهم، فإذا صائح يصيح، من جوف العجل يا آل ذريح أمر نجيح رجل يصيح بلسان فصيح، يدعو إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فعلمت أنه أرادني، ثم مررت بغنم فإذا هاتف يهتف يقول:
يا أيها الناس ذوو الأجسام ... ما أنتم وطائش الأحلام
ومسندوا الحكم إلى الأصنام ... فكلكم أراه كالأنعام
أما ترون ما أرى أمامي ... من ساطع يجلو دجى الظلام
قد لاح للناظر من تهام ... أكرم به لله من إمام
قد جاء بعد الكفر بالإسلام ... والبر والصلات للأرحام
فقلت: والله ما أراه إلا أرادني، ثم مررت بالضمار فإذا هاتف من جوفه:
ترك الضمار وكان يعبد وحده ... بعد الصلاة مع النبي محمد
إن الذي ورث النبوة والهدى ... بعد ابن مريم من قريش مهتد
سيقول من عبد الضمار ومثله ... ليت الضمار ومثله لم يعبد
فاصبر أبا حفص فإنك آمن ... يأتيك عز غير عز بني عدي
لا تعجلن فأنت ناصر دينه ... حقا يقينا باللسان وباليد
فوالله لقد علمت أنه أرادني! فجئت حتى دخلت على أختي فإذا خباب ابن الأرت عندها وزوجها! فقال خباب: ويحك يا عمر! أسلم، فدعوت بالماء فتوضأت ثم خرجت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لي: قد استجيب لي فيك يا عمر! أسلم، فأسلمت وكنت رابع أربعين رجلا ممن أسلم، ونزلت: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} . "أبو نعيم في الدلائل".
35744 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں ابی جبل شیبہ بن ربیعہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت محمد (1) نے تمہارے معبودوں کو گالیاں دیں ہیں اور تمہاری عقلوں کو بیوقوف ٹھہرایا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ تمہارے گذرے ہوئے آباء و اجداد جہنم میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور جو محمدکوقتل کرے اس کو سوسرخ و سیاہ اونٹ انعام میں دینا میرے ذمہ لازم ہے اور چاندی کے چالیس اوقیہ بھی میں تلوار لٹکا کر نکل گیا اور ترکش کو الٹ کر محمد کے ارادہ سے میرا گذر ایک بچھڑے پر ہوا جس کو لوگ ذبح کررہے تھے میں کھڑے ہو کر اس کو دیکھنے لگا تو اچانک بچھڑے کے پیٹ سے ایک آواز نکالنے والا کہہ رہا تھا اے آل ذریح نجات کا راستہ وہی جو ایک شخص فصیح زبان کے ساتھ پکاررہا ہے کہ اس کلمہ کی شہادت دوران لاالہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ تو مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے ہی حکم دیا جارہا ہے پھر ایک اونٹ پر میرا گذرہوا تو ایک غیبی آواز آئی کہ : یا ایھا الناس ذو والاجنسام ماانتم وطانش الاحلام ومسند والحکم الی الاصنام فکذکم اراہ کالا نعام اماترون مسا اری امالی من ساطع یجلو دجی الظلام قد لاح الناظر من تھام اکرم بہ اللہ من امام فد جاء بعد الکفر بالاسلام والبسر والصلات للارحام 1 ۔ اے لوگو جو جسم والے ہیں تم تو خواب کی مدہوشی میں پڑے ہوئے ہو۔ 2 ۔ حکم کو بتوں کی طرف منسوب کرتے ہو میں تم میں سے ہر ایک کو جانور کی طرح دکھ رہاہوں۔ 3 ۔ کیا تم نہیں دیکھتے جو میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں ایک نور ہے جس سے رات کا اندھیرا چھپ گیا ہے 4 ۔ دیکھنے والوں کے لیے تمہامہ پہاڑ سے ایک امام ظاہر ہوا ہے اللہ کے لیے اس کا اکرام کرو۔ 5 ۔ کفر کے بعد اسلام لے کر آیا ہے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی و احسان کا حکم لایا ہے۔ میں نے دل میں کہا بخد ایہ مجھے کہا جارہا ہے پھر میرا گذر ضمار بت پر ہوا اس کے پیٹ سے آواز آئی حاصل اس کا یہ ہے۔ 1 ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعلق جوڑنے کے بعد ضماربت کی عبادت چھوڑ دی گئی ہے حالانکہ اس کی تنہا عبادت کی جاتی تھی۔ 2 ۔ عنقریب کہیں گے باری جیسے ضماربت یا اس جیسی کے عبادت گذار کہ ضمار یا اسی جیسی دگیربت عبادت کے لاحق نہیں۔ 3 ۔ اے ابوحفص صبر کرلو کیونکہ تم ایمان لاؤگے تمہیں وہ عزت ملے گی جو نبی عدی کے دیگر افراد کو نہیں ملتی۔ 4 ۔ جلدی مت کر تم اس دین کے مددگار ہو حق یقین زبان اور ہاتھ کے ساتھ۔ اللہ کی قسم مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے ہی پکارا جارہا ہے یہاں تک میں اپنی بہن کے پاس پہنچا تو خباب بن ارت کے پاس میری بہن اور اس کا شوہر تھے خباب نے کہا اے عمر تیرا ناس ہوا اسلام قبول کرلو میں نے پانی مانگاوضو کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عمر اپنے بارے میں میری دعوت قبول کرکے اسلام قبول کرلو میں نے اسلام قبول کرلیا اور میں چالیس کا چالیسواں تھا اسلام لانے والوں میں اور یہ آیت نازل ہوئی۔ یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین ابونعیم فی الدلائل