hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35762

.

كنز العمال

35762
Kanz al-Ummal
35753- عن ابن عباس قال: سألت عمر: لأي شيء سميت "الفاروق"! قال: أسلم حمزة قبلي بثلاثة أيام، فخرجت إلى المسجد فأسرع أبو جهل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يسبه، فأخبر حمزة، فأخذ قوسه وجاء إلى المسجد إلى حلقة قريش التي فيها أبو جهل، فاتكأ على قوسه مقابل أبي جهل فنظر إليه، فعرف أبو جهل الشر في وجهه فقال: مالك يا أبا عمارة؟ فرفع القوس فضرب بها أخدعيه فقطعه فسألت الدماء، فأصلحت ذلك قريش مخافة الشر، ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف في دار الأرقم بن أبي الأرقم المخزومي، فانطلق حمزة فأسلم، وخرجت بعده بثلاثة أيام فإذا فلان المخزومي! فقلت: أرغبت عن دينك ودين آبائك واتبعت دين محمد؟ قال: إن فعلت فقد فعله من هو أعظم عليك حقا مني! قلت: من هو؟ قال أختك وختنك! فانطلقت فوجدت همهمة فدخلت فقلت: ما هذا؟ فما زال الكلام بيننا حتى أخذت برأس ختني فضربته وأدميته، فقامت إلي أختي وأخذت برأسي وقالت: قد كان ذلك على رغم أنفك! فاستحييت حين رأيت الدماء فجلست وقلت: أروني هذا الكتاب، فقالت: إنه لا يمسه إلا المطهرون، فقمت فاغتسلت، فأخرجوا لي صحيفة فيها "بسم الله الرحمن الرحيم" قلت: أسماء طيبة طاهرة {طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} إلى قوله: {الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى} فتعظمت في صدري وقلت: من هذا فرت قريش! فأسلمت وقلت: أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: فإنه في دار الأرقم، فأتيت فضربت الباب فاستجمع القوم فقال لهم حمزة: ما لكم؟ قالوا: عمر! قال: وعمر! افتحوا له الباب، فإن أقبل قبلنا منه، وإن أدبر قتلناه، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج، فتشهدت فكبر أهل الدار تكبيرة سمعها أهل المسجد! قلت: يا رسول الله! ألسنا على الحق؟ قال: بلى! قلت: ففيم الاختفاء! فخرجنا صفين: أنا في أحدهما وحمزة في الآخر حتى دخلنا المسجد، فنظرت قريش إلي وإلى حمزة فأصابتهم كآبة شديدة، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم "الفاروق" يومئذ وفرق بين الحق والباطل. "أبو نعيم في الدلائل، كر".
35753 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہی کہ میں نے عمر (رض) سے پوچھا کہ آپ کا نام فاروق کس طرح رکھ گیا تو فرمایا حمزہ (رض) مجھ سے تین روز قبل مسلمان ہوتے میں مسجد کی طرف نکلا ابوجہل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زور سے گالیاں دے رہا تھا حمزہ (رض) کو اس کی اطلاع ہوئی تو اپنا کمان لے کر مسجد حرام آئے قریش کے اس حلقہ میں جس میں ابوجہل بھی موجود تھا اپنے کمان پر تکیہ لگاکر ابوجہل کے مدمقابل کھڑے ہوتے ابوجہل نے ان کے غصہ کو بھانپ لیاپوچھا اے ابوامارہ کیا ہوا ؟ کمان اٹھا کر اس کے ایک رخسار پر مارا اس کو خونبہنی لگاقریش نے ان میں صلح کروادی شر کے خوف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رقم بن ابی الارقم مخزورمی کے گھر میں خفیہ طورپرقیام پذیر تھی حمزہ وہاں گئے اور مسلمان ہوگئے اس کے تین دن کے بعد میں اپنے گھر سے نکلا تو فلاں مخزومی سے میری ملاقات ہوئی میں نے کہا کیا تم نے اپنے دین اور اپنے آبائی دین سے اعراض کیا اور دین محمدی کی اتباع کرلی ہے ؟ تو انھوں نے کہا اگر میں نے ایسا کیا ہے تو اس نے بھی کیا جس کا تم پر مجھ سے زیادہ حق ہے پوچھا وہ کون ؟ بتایا تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی میں ان کے گھر پہنچا وہاں کچھ ہلکی آواز سنائی دی میں گھر میں داخل ہوا اور پوچھا یہ کیا ہے ہمارے درمیان بات بڑھتی گئی یہاں تک میں نے اپنے بہنوئی کا سرپکڑ لیا اس کو مار کر لہولہان کردیا میری بہن کھڑی ہوئی اور میرا سرپکڑ لیا اور کہا ایسا ہوا ہے اور تیری مرضی کے خلاف ہوا ہے جب میں نی اس کے چہرے پر خون دیکھا تو مجھے شرم آئی میں بیٹھ گیا اور اس سے کیا یہ کتاب مجھے دکھاؤ اس نے کہا یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کو بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا میں نے اٹھ کر غسل کرلیا انھوں نے صحفیہ نکالا اس میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تھا میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے نام پاکیزہ طیب طہ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی سے الا سماء اللہ الحسنی تک اب میرے دل میں عظمت بیٹھ گئی میں نے کہا اسی کلام سے قریش بھاگتے ہیں میں نے اسلام قبول کرلیا میں نے پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں بتایا دارالارقم میں ہیں میں وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکٹایا لوگ جمع ہوگئے ان سے حمزہ (رض) نے کہا تمہیں کیا ہوا ؟ بتایا عمر ہیں تو کہا ان کے لیے دروازہ کھولو اگر اسلام قبول کرلیا تو ہم بھی ان کی طرف سے قبول کرلیں گے اگر روگردانی کی تو ان کو قبل کردیں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ گفتگو سنی کمرہ سے باہر تشریف لائے میں نے کلمہ شہادت پڑھا تو گھر میں موجود افراد نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ مسجد حرام میں بیٹھے لوگوں نے بھی سن لیا میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ فرمایا ضرورحق پر ہیں میں نے کہا پھرچھپ کر کیوں دعوت کا عمل انجام دیں ؟ ہم دوصفوں میں نکلے ایک صف کے آگے میں تھا دوسرے میں حمزہ (رض) اس طرح مسجد حرام میں داخل ہوگئے قریش نے میری طرف اور حمزہ (رض) کی طرف دیکھا ان کو سخت حزن وملال لاحق ہوامیرانام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن سی فاروق رکھا اس دن سے حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا۔ (ابونعیم فی الدئل ابن عساکر)