hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35768

.

كنز العمال

35768
Kanz al-Ummal
35759- عن قيس بن الحجاج عمن حدثه قال: لما فتح عمرو ابن العاص مصر أتى أهلها إليه حين دخل بؤنة من أشهر العجم، فقالوا له: أيها الأمير! إن لنيلنا هذا سنة لا يجري إلا بها، فقال لهم: وما ذاك؟ قالوا: إنه إذا كان لثنتي عشرة ليلة تخلو من هذا الشهر عمدنا إلى جارية بكر بين أبويها فأرضينا أبويها وجعلنا عليها شيئا من الحلي والثياب أفضل ما يكون ثم ألقيناها في هذا النيل، فقال لهم عمرو: إن هذا لا يكون في الإسلام وإن الإسلام يهدم ما قبله فأقاموا بؤنة وأبيب ومسرى لا يجري قليلا ولا كثيرا حتى هموا بالجلاء، فلما رأى ذلك عمرو كتب إلى عمر ابن الخطاب بذلك، فكتب إليه عمر: قد أصبت، إن الإسلام يهدم ما كان قبله، وقد بعثت إليك ببطاقة فألقها في داخل النيل إذا أتاك كتابي، فلما قدم الكتاب على عمرو فتح البطاقة فإذا فيها: من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى نيل أهل مصر! أما بعد فإن كنت تجري من قبلك فلا تجر، وإن كان الواحد القهار يجريك فنسأل الله الواحد القهار أن يجريك. فألقى عمرو البطاقة في النيل قبل يوم الصليب بيوم وقد تهيأ أهل مصر للجلاء والخروج منها لأنه لا يقوم بمصلحتهم فيها إلا النيل، فأصبحوا يوم الصليب وقد أجراه الله ستة عشر ذراعا، وقطع تلك السنة السوء عن أهل مصر. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر وأبو الشيخ في العظمة، كر".
35759 ۔۔۔ قیس بن حجاج روایت کرتے ہیں اپنے سے حدیث بیان کرنے والے کے حوالہ سے جب عمروبن العاص نے مصر فتح کیا تو بونہ عجمی، مہینہ داخل ہونے کے بعد مصر کے باشندگان ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر دریا نیل کی ایک عادت ہے اس کے بغیر یہ نہیں چلتا پوچھا کیا عادت ہے بتایا کہ جب اس مہینہ کی بارہ تاریخ گذر جاتی ہے تو ہم ایک حسین جمیل لڑکی جو اپنے والد کی نظر میں محبوب ہو تلاش کرتے ہیں تو والدین کو مال دے کر راضی کرکے اس کو حاصل کرتے ہیں پھر لڑکی کو پر کے زیورات سے آراستہ کرکے اس دریائے نیل کا حوالے کردیتے ہیں تو عمر (رض) کو کہا اسلام آنے کے بعد اس جاہلانہ ظالمانہ رسم پر عمل نہیں ہوسکتا اسلام اپنے ماقبل کی تمام غلط باتوں کو مٹاتا ہے اب دریا تین مہینے سے خشک ہے اس میں ایک قطرہ پانی نہیں یہاں تک مصر والوں نے انخلاء کا قصد کرلیا تو عمروبن العاص نے اس معاملہ کو دیکھا تو عمربن خطاب (رض) کے پاس خط لکھا تو عمر (رض) نے جواب میں لکھا کہ تم نے درست فیصلہ کیا ان الاسلام یھدم ماکان قبلہ میں آپ کے پاس ایک بطاقہ بھیج رہاہوں جب خط آپ کے پاس پہنچ جائے اس کو آپ دریائے نیل میں ڈال دیں جب خط عمرو بن عاص کے پاس پہنچا تو اس میں لکھا ہوا تھا ۔ من عبداللہ امیر المومنین الی نیل اہل مصر، اما بعد فان کنت تجری من قبلک فلاتجروان کان الواحد القھار یجر یک فسال اللہ الواحد القھاد ان یجریک ۔ یعنی یہ امیرالمومنین عمر (رض) کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کے نام ہے حمد و صلوة کے بعد اے دریا اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے تو تو مت چل اگر تجھے اللہ واحد وقہار چلاتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ واحد وقہار سے درخواست کرتے ہیں کہ تجھے جاری کردیں۔ تو عمر وبن العاص نے یہ خط دریا کے حوالے کیا کا صلیت کے دن آنے سے ایک روز پہلے جب کہ اہل مصرجلاوطنی کے لیے تیار ہوچکے تھے کیونکہ ان کی تمام ضروریات کا مدار دریا نیل تھا جو خشک ہوچکا تو صلیب کے دن صبح اللہ تعالیٰ نے اس کو سولہ فٹ جاری کردیا اس طرح اہل مصر سے اس بری رسم کا خاتمہ کردیا۔ (ابن عبدالحکیم فی فتوح مصروابوالشیخ فی العظمہ ابن عساکر)