35762- عن زيد بن أسلم قال: خرج عمر بن الخطاب ليلة يحرس، فرأى مصباحا في بيت فدنا فإذا عجوز تطرق شعرا لها لتغزله - أي تنفشه بقدح وهي تقول:
على محمد صلاة الأبرار ... صلى عليك المصطفون الأخيار
قد كنت قواما بكى الأسحار ... يا ليت شعري والمنايا أطوار
هل تجمعني وحبيبي الدار
تعني النبي صلى الله عليه وسلم، فجلس عمر يبكي، فما زال يبكي حتى قرع الباب عليها، من هذا؟ قال: عمر بن الخطاب، قالت: مالي ولعمر؟ وما يأتي بعمر هذه الساعة؟ قال: افتحي - رحمك الله! فلا بأس عليك، ففتحت له فدخل فقال: ردي علي الكلمات التي قلت آنفا، فردتها عليه، فلما بلغت آخرها قال: أسألك أن تدخليني معكما، قالت:
وعمر فاغفر له يا غفار
فرضى ورجع. "ابن المبارك، كر".
35762 ۔۔۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عمر (رض) ایک رات پہرہ داری کے لیے نکلے تو ایک گھر میں چراغ جلتا ہوا نظر آیا جب اس گھر کے قریب پہنچے تو دیکھا ایک بوڑھیا اپنا ایک شعرگنگھنا رہی ہے تاکہ اس پر غزل کہے وہ کہہ رہی تھی۔ علی محمد صلاة الابرار صلی علیک المصطفون الا خیار قد کنت قواما بکی الاسحار بالیت شعری والمنا یا اطوار ھل تجمعنی وجیبی الدار۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیک لوگوں کی دعا ہو تجھ پر منتخب انبیاء کی دعا ہو توراۃ کو بیدار رہنے والا نے کاش مجھے معلوم ہوتاموت کا وقت کیا ہے موت مجھ میں اور میرے حبیب میں جمع کرے گی۔ حبیب سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں حضرت عمر (رض) وہیں بیٹھ کر رونے لگے مسلسل روتے رہے یہاں تک بوڑھیا کا دروازہ کھٹکھٹایا تو آواز آئی کون ؟ بتایا عمربن خطاب پوچھا اس وقت میرے دروازے پر عمربن خطاب کا کیا کام ؟ تو بتایا دروازہ کھولیں اللہ تجھ پر رحم فرماتے تیرا کوئی جرم نہیں اس نے دروازہ کھولا تو عمر (رض) نے کہا جو کلمات کہہ رہی تھیں ان کا اعادہ کریں اس نے دوبارہ سنایا تو جب آخری شعر پر پہنچی تو فرمایا میری دراخواست ہے کہ اپنی دعا میں مجھے بھی شامل کریں تو اس نے کہا وعمرفاغفرلہ یاغفار۔ اے غفار عمر (رض) کی مغفرت فرمایا یہ سن کر راضی ہوئے اور واپس ہوئے۔ (ابن المبارک ابن عساکر)