35763- عن موسى بن أبي عيسى قال: أتى عمر بن الخطاب مشربة بني حارثة، فوجد محمد بن مسلمة فقال عمر: كيف تراني يا محمد؟فقال: أراك والله! كما أحب وكما تحب من يحب لك الخير، أراك قويا على جمع المال: عفيفا عنه، عدلا في قسمه، ولو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاب، فقال عمر: هاه! وقال: لو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاب؟ فقال: الحمد الله الذي جعلني في قوم إذا ملت عدلوني. "ابن المبارك".
35763 ۔۔۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نبی حارثہ کے کنواں پر پہنچے وہاں محمد بن مسلمہ ملے تو عمر (رض) نے پوچھا احمد آپ مجھے کیسے پاتے ہیں ؟ تو جواب دیا اللہ کی قسم آپ کو اپنی پسند کا آدمی پاتاہوں اور آپ اپنے متعلق جس طرح کی خبر کو پسند کرتے ہیں اس طرح پاتاہوں میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ مال جمع کرنے میں قوی ہیں لیکن مال جمع کرنے سے دامن بچاتے ہیں مال تقسیم کرنے میں انصاف کرتے ہیں اگر اس میں جانب دار کریں تو ہم آپ کو ایسا سیدھاکریں جس طرح تیر کو سیدھا کرتے ہیں سوراخ میں عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ بات دوبارہ کہو تو انھوں نے کہا اگر جانب داری سے کام لیا تو جس طرح تیر کو سوراخ میں سیدھا کیا جاتا ہے ایسا ہی سیدھاکریں گے تو عمر (رض) نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کی جس نے عمر (رض) کو اس قوم میں پیدا کیا اگر میں نیز ہا چلوں تو مجھے سیدھا کریں گے۔ (ابن المبارک)