35770- عن محمد بن زيد قال: اجتمع علي وعثمان والزبير وطلحة وعبد الرحمن بن عوف وسعد وكان أجرأهم على عمر عبد الرحمن بن عوف فقالوا: يا عبد الرحمن! لو كلمت أمير المؤمنين للناس! فإنه يأتي الرجل طالب الحاجة فتمنعه هيبتك أن يكلمك في حاجته حتى يرجع ولم يقض حاجته، فدخل عليه فكلمه فقال: يا أمير المؤمنين! لن للناس، فإنه يقدم القادم فتمنعه هيبتك أن يكلمك في حاجته حتى يرجع ولم يكلمك، فقال: يا عبد الرحمن! أنشدك الله أعلي وعثمان وطلحة والزبير وسعد أمروك بهذا؟ قال: اللهم نعم، قال: يا عبد الرحمن! والله لقد لنت للناس حتى خشيت الله في اللين! ثم اشتددت عليهم حتى خشيت الله في الشدة، فأين المخرج؟ فقام عبد الرحمن يبكي يجر رداءه يقول بيده: أف لهم بعدك. "ابن سعد، كر".
35770 ۔۔۔ محمد بن زید سے منقول ہے حضرت علی (رض) عثمان زبیر طلحہ عبدالرحمن بن عوف سعدیہ سارے اکٹھے ہوئے عمر (رض) کے سامنے ان میں سب سے زیادہ جرات والے عبدالرحمن بن عوف تھے سب نے کہا اے عبدالرحمن اگر آپ امیر المومنین سے بات کرتے لوگوں کے متعلق کہ کوئی ضرورت مند آتا ہے تمہاری ہیبت اس کے لیے مانع ہوتی ہے وہ اپنی ضرورت بیان نہیں کرپاتا اس لیے ضرورت پوری کئے بغیر واپس چلاجاتا ہے تو عبدالرحمن (رض) ان کے پاس گئے اور ان سے بات کی کہ اے امیر المومنین لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے کیونکہ لوگ اپنی حاجت لے کر آپ کی خدمت میں آتے ہیں لیکن آپ کی ہیبت مانع ہونے کی بناپر آپ سے حاجت پوری کئے بغیر واپس چلے جاتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے عبدالرحمن آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں علی عثمان طلحہ زبیر اور سعد (رض) نے اس کا حکم دیا ہے ؟ تو انھوں نے بتایا ہاں تو عمر (رض) نے فرمایا کہ اے عبدالرحمن میں نے لوگوں سے اتنی نرمی کی کہ یہاں تک مجھے خوف ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس نرمی پر گرفت نہ فرمائے پھر میں نے سختی کی اور ان پر یہاں تک مجھے خوف ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر گرفت نہ فرمائیں اب کونسا راستہ اختیار کیا جائے عبدالرحمن (رض) روتے ہوئے اپنی چادر گھسٹتے ہوئے نکلے یہ کہتے ہوئے کہ معاملہ اسی کے ہاتھ میں تیرے بعد ان کے لیے ہلاکت ہے۔ (ابن سعد ، ابن عساکر)