hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35781

.

كنز العمال

35781
Kanz al-Ummal
35772- عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: كان عمر بن الخطاب يعس المسجد بعد العشاء فلا يرى فيه أحدا إلا أخرجه إلا رجلا قائما يصلي، فمر بنفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم أبي ابن كعب فقال: من هؤلاء؟ فقال أبي: نفر من أهلك يا أمير المؤمنين! قال: ما خلفكم بعد الصلاة؟ قالوا: جلسنا نذكر الله، قال فجلس معهم ثم قال لأدناهم إليه: خذ قال فدعا فاستقرأهم رجلارجلا يدعون حتى انتهى إلي وأنا إلى جنبه فقال: هات فحصرت وأخذني من الرعدة أفكل 1 حتى جعل يجد مس ذلك مني فقال: ولو أن تقول: اللهم اغفر لنا! اللهم ارحمنا! قال ثم أخذ عمر فما كان في القوم أكثر دمعة ولا أشد بكاء منه، ثم قال: إيها الآن فتفرقوا. "ابن سعد".
35772 ۔۔۔ ابی سعید مولی ابی اسید روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) عشاء کے بعد مسجد سے جاتے تھے اس میں جو شخص نظر آتا اس کو نکال دیتے سوائے کوئی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو ایک مرتبہ ان کا ایک جماعت پر گذر ہوا ان میں ابی بن کعب بھی تھے پوچھایہ کون لوگ ہیں تو ابی نے بتایا اے امیر المومنین آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت ہے پوچھا کہ تم نماز کے بعد کیوں رک گئے تو انھوں نے بتایا ہم ذکر اللہ کے لیے بیٹھے ہیں تو حضرت عمر (رض) خودبھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے پھر اپنے قریب ترین شخص سے کہا یہ لے لو ایک ایک شخص کو ٹٹولتا رہا یہاں تک مجھ تک پہنچ گئے میں ان کے پہلوں میں تھا تو فرمایا لاؤ میری آواز بند ہوگئی اور مجھ پر کپکپی سختی سے طاری ہوگئی یہاں تک کہ انھوں نے اس کو محسوس کیا تو فرمایا اگر آپ کہتے اللھم اغفرلنا اللھم ارحمنا پھر عمر (رض) نے رونا شروع کیا قوم میں ان سے زیادہ آنسو بہانے والا زیادہ رونے والا کوئی نہیں تھا پھر فرمایا اس وقت منتشر ہوجاؤ۔ (ابن سعد)