35786- عن أبي بردة عن أبيه قال: رأى عوف بن مالك أن الناس قد جمعوا في صعيد واحد فإذا رجل قد علا الناس بثلاثة أذرع! قلت: من هذا؟ قالوا: عمر بن الخطاب، قلت: بما يعلوهم؟ قالوا: إن فيه ثلاث خصال: لا يخاف في الله لومة لائم، وإنه شهيد مستشهد، وخليفة مستخلف، فأتى عوف أبا بكر فحدثه، فبعث إلى عمر فبشره، فقال أبو بكر: قص رؤياك، فقصها، فلما قال: خليفة مستخلف انتهره عمر فأسكته، فلما ولى عمر قال لعوف: اقصص رؤياك، فقصها، فقال؟ أما لا أخاف في الله لومة لائم فأرجو أن يجعلني الله فيهم، وأما خليفة مستخلف فقد استخلفت فأسأل الله أن يعينني على ما ولاني، وأما شهيد مستشهد فأنى لي الشهادة وأنا بين ظهراني جزيرة العرب لست أغزو والناس حولي! ثم قال: ويلي! ويلي! يأتي الله بها إن شاء الله تعالى. "ابن سعد، كر".
35786 ۔۔۔ ابی بردہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عوف بن مالک نے خواب میں دیکھا کہ لوگ یک مٹی میں جمع ہوئے ہیں ان میں ایک شخص تین بالشت اونچائی پر تھا میں نے پوچھا یہ کون ؟ لوگوں نے بتایا عمر میں خطاب میں نے پوچھا یہ اونچائی پر کیوں ہے ؟ لوگوں نے بتایا میں تین خصلتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے وہ شہید ہیں ان کی شہدات شہر میں ہوگی وہ خلیفہ ہیں جنہیں خلافت شپرد کی گئی عوف ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور خواب بیان کیا تو انھوں نے عمر (رض) کو بلوایا ان کو خوشخبری سنائی ابوبکر (رض) نے فرمایا اپنا خواب بیان کروتو انھوں نے عمر (رض) کے سامنے دوبارہ بیان کیا جب کہا خلیفہ مستخلف تو عمر (رض) نے ڈانٹا اور خاموش کروایا جب عمر (رض) چلے گئے تو عوف (رض) سے کہا خواب بیان کروتو انھوں نے نے پورا خواب بیان کیا تو فرمایا جہاں تک تعلق اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں کسی سے نہ ڈرنے کا ہے مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنائیں گے اور جہاں تعلق ہے خلیفہ مستخلف میں نے ان کو اپنا خلیفہ بنالیا ہے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں خلافت کے سلسلہ میں میری مدد فرماتے جہاں تک شہید مستشھد یہ میرے نصیب میں کہاں ؟ میں تو جزیرة العرب کے درمیان میں ہوں میں جہاد میں نہیں جاتامگر لوگ میرے گرد ہوتے ہیں پھر فرمایا ہائے میری ہلاکت ہائے میری ہلاکت اگر اللہ چاہا تو شہادت کے مرتبہ پر فائز فرمائیں گے۔ (ابن سعد ابن عساکر)