35788- عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب يوما جعل ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين! لقينا عدونا فهزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله، فقيل لعمر: إنك كنت تصيح بذلك. "ابن الأعرابي في كرامات الأولياء والديرعاقولي في فوائده وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين وأبو نعيم عق معا في الدلائل واللالكائي في السنة، كر، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة: إسناده حسن".
35788 ۔۔۔ ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے ایک لشکر روانہ فرمایا ان پر ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا جس کو ساریہ کہا جاتا تھا اس کے بعد ایک روز عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے اس دوران پکاراسارا الجبل تین مرتبہ یہ آواز لگائی اس کے بعدلشکر کا قاصد آیا اس سے عمر (رض) نے حالات دریافت کئے تو اس نے بتایا کہ ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو اہم شکست کھا رہے تھے اچانک ایک آواز سنائی دی یاساریہ الجبل تین مرتبہ ہم نے اپنی پشت پہاڑ کی طرف کرلی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو عمر (رض) سے پوچھا گیا آپ یہ آواز لگا رہے تھے۔ (ابن الاعرابی نے کرامات الاولیاء میں دیرعا قولی نے فوائد میں ابوعبدالرحمن اسلمی نے اوبین میں ابونعیم وعقیلی نے اکٹھا دلائل میں ولالکائی نے السنہ میں ابن عساکر حافظ ابن حجر نے اصابہ میں فرمایا اس کی سند حسن ہے)