35789- عن ابن عمر قال: كان عمر يخطب يوم الجمعة فعرض في خطبته أن قال: يا سارية الجبل! من استرعى الذئب ظلم؛ فالتفت الناس بعضهم إلى بعض فقال لهم علي: ليخرجن مما قال! فلما فرغ سألوه، فقال: وقع في خلدي أن المشركين هزموا إخواننا وأنهم يمرون بجبل، فإن عدلوا إليه قاتلوا من وجه واحد، وإن جازوا هلكوا؛ فخرج مني ما تزعمون أنكم سمعتموه، فجاء البشير بعد شهر فذكر أنهم سمعوا صوت عمر في ذلك اليوم، قال: فعدلنا إلى الجبل ففتح الله علينا. "السلمي في الأربعين وابن مردويه".
35789 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے اس دوران آواز لگائی کہ یاسایہ الجبل جس نے بھیڑیا کو چرایا ظلم کیا یہ آواز سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے علی (رض) نے ان سے کہا اس طرف توجہ چھوڑ دو خطبہ سے فراغت کے بعد لوگوں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ میرے دل میں آیا کہ مشرکین نے ہمارے لشکر کو شکست دی اور ایک پہاڑ کے قریب سے گذر رہے ہیں اگر وہ مڑکرپہاڑ کی طرف آجائیں تو صرف ایک جانب سے قتال کرنا ہوگا اگر پہار پار کرگئے تو ہلاک ہوگئے تو میری زبان سے وہ الفاظ نکلے جو تمہارے خیال کے مطابق تم نے اسنے ایک ماہ بعد قاصد آیا اور انھوں نے بتایا کہ ہم نے اسی دن عمر (رض) کی آواز سنی ہم پہاڑ کی طرف ہوگئے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی۔ (السلمی فی الاربعین وابن مردویہ)