hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35800

.

كنز العمال

35800
Kanz al-Ummal
35791- "مسنده رضي الله عنه" عن أبي بلج علي بن عبيد الله قال: بينا عمر بن الخطاب قاعد على المنبر يوم الجمعة يخطب قال بأعلى صوته: يا سارية الجبل! يا سارية الجبل! ثم أخذ في خطبته، فأنكر الناس ذلك منه، فلما نزل وصلى قيل: يا أمير المؤمنين! قد صنعت اليوم شيئا ما كنا نعرفه، قال: وما ذاك؟ قيل: قلت كذا وكذا - وذكروا ما نادى به، فقال: ما كان شيء من هذا، قالوا: بلى والله لقد كان ذلك! قال: فأثبتوا من هذا اليوم من هذا الشهر ثم أبصروا، وكان بعث سارية في بعث العراق فطف العدو فحيز إلى الجبل، وقال سارية لما انصرف: بينا نحن نقاتل العدو إذ سمعنا صوتا لا ندري ما هو: يا سارية الجبل - ثلاثا، فدفع الله عنا به، فنظروا في ذلك اليوم فإذا هو اليوم الذي قال عمر فيه ما قال. "اللالكائي".
35791 ۔۔۔ (مسند (رض)) ابی بلج علی بن عبداللہ (رض) سے منقول ہے کہ عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہیں تھے کہ اچانک بلند آواز سے پکارا ساریہ الجبل یاساریہ الجبل پھر خطبہ شروع کیا لوگوں نے اس فعل کو برا سمجھا جب خطبہ سے فارغ ہو کر نماز پڑھا دی لوگوں نے پوچھا اے امیر المومنین آج آپ نے خطبہ میں ایک ایسا کام کیا جو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ پوچھا وہ کیا بتایا گیا کہ آپ نے ایسا ایسا کہا ان کی آواز لگانے کا تذکرہ کیا انھوں نے فرمایا ایسی کوئی بات نہیں تھی لوگوں نے کہا ضرورایسا ہوا ہے تو فرمایا اس دن اس مہینہ کو یاد رکھو پھر انتظار کرو انھوں نے ساریہ کی قیادت میں عراق کی طرف لشکر بھیجا تھا کہ جو دشمن کے نرغہ میں آگیا تھا تو ان کو پہاڑ کی طرف اور ساریہ نے واپسی پر کہا کہ ہم دشمن سے قتال کررہے تھے اس دوران ایک آواز سنائی دی معلوم نہیں آواز کس کی تھی یا ساریہ الجبل تین مرتبہ اس کے ذریعہ اللہ کے دشمن کو ہم سے دفع لوگوں نے اس دن کو تاریخ کے ساتھ ملا کر دیکھا تو وہی دن تھا جس دن عمر (رض) نے خطبہ میں آواز لگائی تھی۔ (اللا لکائی)