hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35799

.

كنز العمال

35799
Kanz al-Ummal
35790- عن عمرو بن الحارث قال: بينما عمر يخطب يوم الجمعة إذ ترك الخطبة فقال: يا سارية الجبل - مرتين أو ثلاثا، ثم أقبل على خطبته، فقال بعض الحاضرين: لقد جن، إنه لمجنون؛ فدخل عليه عبد الرحمن بن عوف وكان يطمئن إليه فقال: إنك لتجعل لهم على نفسك مقالا، بينا أنت تخطب إذ أنت تصيح: يا سارية الجبل، أي شيء هذا؟ قال: والله إني ما ملكت ذلك! رأيتهم يقاتلون عند جبل يؤتون من بين أيديهم ومن خلفهم فلم أملك أن قلت: يا سارية الجبل! ليلحقوا بالجبل. فلبثوا إلى أن جاء رسول سارية بكتابه أن القوم لقونا يوم الجمعة فقاتلناهم حتى إذا حضرت الجمعة سمعنا مناديا ينادي: يا سارية الجبل - مرتين، فلحقنا بالجبل، فلم نزل قاهرين لعدونا إلى أن هزمهم الله وقتلهم. فقال: أولئك الذين طعنوا عليه: دعوا هذا الرجل، فإنه مصنوع له. "أبو نعيم في الدلائل".
35790 ۔۔۔ عمروبن حارث سے منقول ہے کہ عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے جمعہ کے دن اچانک خطبہ چھوڑیا اور کہا یا ساریہ اجبل دویازمین مرتبہ پھر خطبہ کی طرف متوجہ ہوئے بعض حاضرین نے کہا ان پر شاید جن حاضر ہوگیا جنون طاری ہوگیا خطبہ کے بعد عبدالرحمن بن عوف (رض) داخل ہوئے آپ کو مطمئن پایا تو پوچھا آپ کچھ نفس سے بھی یا تیں کرتے ہیں کیونکہ آپ خطبہ کے دوران چیخ کر کہہ رہے تھے یاسارا اجبل اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو فرمایا بخدا یہ میرے اختیار میں نہیں تھا میں نے لشکر کو پہاڑ کے قریب دشمن سے لڑتے دیکھا ان پر سامنے اور پیچھے دونوں جانب سے حملے ہورہے تھے حتی کہ میں نے ان کو یہ ہدایت دی کہ یاسایہ الجبل تاکہ لشکر کو پہاڑ کی جانب لے جائے کچھ ہی دنوں کے بعد ساریہ کا قاص آیا ساریہ کا خط لے کر اس میں مذکورہ تھا کہ دشمن نے جمعہ کے دن ہم سے قتال کیا ہم نے مقابلہ کیا یہاں تک جمعہ کا وقت ہوگیا ہم نے ایک آواز سنی یاساریہ الجبل دو مرتبہ ہم پہاڑ کی جانب ہوگئے اب ہم برابر غلبہ حاصل کرتے رہے یہاں تک اللہ تعالےٰ نے دشمن کو شکست دی اور ان کو قتل کیا بتایا ان لوگوں نے حضرت عمر (رض) پر طعن کیا کہ اس آدمی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تکلیف سے کام لیتا ہے۔ (ابونعیم فی الدلائل)