35802- عن ابن شهاب أن عمر بن عبد العزيز سأل أبا بكر ابن سليمان بن أبي حثمة لأي شيء كان يكتب: من خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم في عهد أبي بكر، ثم كان عمر كتب أولا: من خليفة أبي بكر، فمن أول من كتب "من أمير المؤمنين"؟ فقال: حدثتني الشفاء وهي جدته وكانت من المهاجرات الأول - أن عمر ابن الخطاب كتب إلى عامل العراق أن يبعث إليه رجلين جلدين يسألهما عن العراق وأهله، فبعث عامل العراق بلبيد بن ربيعة وعدي ابن حاتم، فلما قدما المدينة أناخا راحلتيهما بفناء المسجد ثم دخلا المسجد فإذا هما بعمرو بن العاص فقالا: استأذن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين! فقال عمر: أنتما والله أصبتما اسمه! هو الأمير ونحن المؤمنون، فوثب عمرو فدخل على عمر فقال: السلام عليك يا أمير المؤمنين! فقال عمر: ما بدا في هذا الاسم يا ابن العاص؟ ربي يعلم لتخرجن مما قلت! إن لبيد بن ربيعة وعدي بن حاتم قدما فأناخا راحلتيهما بفناء المسجد ثم دخلا علي فقالا لي: استأذن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين! فهما والله أصابا اسمك! نحن المؤمنون وأنت أميرنا، فمضى به الكتاب من يومئذ. "خ في الأدب والعسكري في الأوائل، طب، ك".
35802 ۔۔۔ ابن شہاب سے منقول ہے کہ عمربن عبدالعزیز نے ابوبکر ابن سلیمان بن ابی حثمہ سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) کے زمانہ خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھاجاتا تھا عمر (رض) نے اولا خلیفة ابی بکر لکھوایا پھر اس سے امیر المومنین کی طرف پھیر دیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ مجھ سے شفاء نے بیان کیا وہ ان کی دادی ہے اور شروع شروع میں ہجرت کرنے والیوں میں سے تھی کہ عمربن خطاب (رض) نے عراق کے گورنر کے پاس خط لکھا کہ میرے پاس دو آدمیوں کو بھیجا جائے جو مضبوط قسم کے ہوں تاکہ ان سے عراق اور اہل عراق خی حالات معلوم کئے جائیں تو عراق کے گورنر نے لبیدبن ربیعہ اور عدی بن حاتم کو بھیجا جب یہ دونوں مدینہ منورہ پہنچے تو انھوں نے اپنی سواریوں کو مسجد کے صحن میں بیٹھا یا پھر مسجد میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات عمروابن العاص سے ہوئی تو دونوں نے کہا اے عمرو آپ امیر المومنین سے ہمارے لیے ملاقات کی اجازت طلب کریں تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم دونوں نے ان کا صحیح نام لیا وہ ہمارے امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں پھر عمر (رض) جلدی سے عمر (رض) کے پاس پہنچا اور کہا اسلام علیکم یا امیر المومنین تو عمر (رض) نے کہا اے ابن العاص یہ نام میں جدت کیسے پیدا ہوئی ؟ میرا رب جانتا ہے تم اس کی دلیل بیان کروگے کہا لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم دونوں آئے اور انھوں نے اپنی سوار مسجد کے صحن میں بیٹھایا پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ ہمارے لیے امیر المومنین سے اجازت طلب کریں اللہ کی قسم ان دونوں نے آپ کا صحیح نام لیا ہم مومن ہیں اور آپ ہمارے امیر ہیں اس دن سے یہی لکھا جانے لگا (بخاری نے ادب المفرد میں عساکر نے دلائل میں طبرانی اور حاکم نے نقل کیا)