hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35812

.

كنز العمال

35812
Kanz al-Ummal
35803- عن ابن عمر قال: قاتل عمر المشركين في مسجد مكة فلم يزل يقاتلهم منذ غدوة حتى صارت الشمس حيال رأسه فجاء حتى أفرجهم فقال: ما تريدون من هذا الرجل؟ قالوا: لا والله إلا أنه صبأ، قال: فنعم رجل اختار لنفسه دينا! فدعوه وما اختار لنفسه، ترون بني عدي ترضي أن يقتل عمر؟ لا والله لا ترضى بنو عدي! قال: وقال عمر يومئذ: يا أعداء الله! والله لو قد بلغنا بثلاثمائة لقد أخرجناكم منها! قلت لأبي بعد من ذاك الرجل الذي ردهم عنك يومئذ؟ قال: ذاك العاصي بن وائل أبو عمرو بن العاص. "ك".
35803 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے مشرکین سے مسجد مکہ (حرم) میں قتال کیا صبح سے لے کر سورج سرپر آنے تک لڑتا رہایہاں تک ایک شخص نے کو منتشر کردیا پوچھا کہ تم اس شخص سے کیا چاہتے ہو تو لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص صابی ہوگیا تو انھوں نے فرمایا کتنا اچھا آدمی ہے اپنے لیے ایک دین کو اختیار کیا ان کو اور انھوں نے اپنے نئے دین کو اختیار کیا ہے اس کو چھوڑ دو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ عمر (رض) کے قتل کئے جانی پر نبی عدی راضی ہوں گے اللہ کی قسم بنوعدی راضی نہیں ہوں گے تو عمر (رض) نے اس دن کہا اے اللہ کے دشمنو ! اگر ہماری تعداد تین سو تک پہنچ گئی تو ہم تم کو یہاں سے نکال باہر کریں گے میں نے اپنے اباجان سے کہا ہلاکت سے دور ہو وہ کون شخص تھا جس نے اس دن دشمنوں کو تم سے دور کیا ؟ تو فرمایا وہ عاص بن وائل عمروبن العاص کے والد تھے ۔ (حاکم سے مستدرک میں نقل کیا)