35807- عن مكحول أن سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال لعمر بن الخطاب: إني أريد أن أوصيك يا عمر! قال: أجل فأوصني، قال: أوصيك أن تخشى الله في الناس ولا تخشى الناس في الله، ولا يختلف قولك وفعلك فإن خير القول ما صدقه الفعل، ولا تقض في أمر واحد بقضاءين فيختلف عليك أمرك وتزيغ عن الحق، وخذ بالأمر ذي الحجة تأخذ بالفلج ويعينك الله ويصلح رعيتك على يديك، وأقم وجهك وقضاءك لمن ولاك الله أمره من بعيد المسلمين وقريبهم، وأحب لهم ما تحب لنفسك وأهل بيتك، واكره لهم ما تكره لنفسك وأهل بيتك، وخض الغمرات إلى الحق، ولا تخف في الله لومة لائم. فقال عمر: من يستطيع ذلك؟ فقال سعيد: مثلك من ولاه الله أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم ثم لم يحل بينه وبين الله أحد. "ابن سعد، كر".
35807 ۔۔۔ مکحول سے روایت ہے کہ سعید بن عامر بن حذیم الجممحی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ہیں انھوں نے عمر بن خطاب (رض) سے فرمایا میں تمہیں کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں تو عمر (رض) نے کہا ہاں ضرور کیجئے تو فرمایا لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں سے مت ڈریں تمہارے قول وفعل میں تضاد نہ ہونا چاہیے بہترین قول وہ ہے جس کی فعل تصدیق کرے ایک مقدمہ کا دو مرتبہ فیصلہ نہ کریں آپ کا حکم مختلف ہوجائے گا آپ حق سے بھٹک جائیں گے اگر کام کو دلیل کو بنیاد پر انجام دیں کامیابیاں حاصل کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کے مددگار ہوگا آپ کے رعایا کی آپ ہاتھ پر اصلاح ہوگی اپنی توجہ اور فیصلہ ہر اس شخص کے بارے میں درست رکھیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حاکم بنایا ہے وہ آپ سے دور ہوں یا قریب لوگوں کے لیے ہی پسند کریں جو آپ اپنے لیے اپنے گھروالوں کے لیے پسند کرتے ہیں ان کے لیے وہی ناپسند کریں جو اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں مسائب میں بھی حق کا راستہ اختیار کریں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں کسی کی ملامت کی پروا نہ کریں عمر (رض) نے کہا ان باتوں پر عمل کرنا کس کی استطاعت میں ہے تو سعید نے کہا آپ جیسے آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے امت محمد کے امور سپرد کئے ہوں پھر اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حائل نہ ہو۔ (ابن سعد ابن عساکر)