35806- عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأموي عن جده أن سعيد بن العاص أتى عمر يستزيده في داره التي بالبلاط وخطط أعمامه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: صل معي الغداة وغبش ثم اذكرني حاجتك قال: ففعلت حتى إذا هو انصرف قلت: يا أمير المؤمنين، حاجتي التي أمرتني أن أذكرها لك، قال فوثب معي ثم قال: امض نحو دارك، حتى انتهيت إليها، فزادني وخط لي برجله، فقلت: يا أمير المؤمنين، زدني، فإنه نبتت لي نابتة من ولد وأهل، فقال: حسبك واختبئ عندك أن سيلي الأمر بعدي من يصل رحمك، ويقضي حاجتك، قال: فمكثت خلافة عمر بن الخطاب حتى استخلف عثمان وأخذها عن شورى ورضي فوصلني وأحسن وقضى حاجتي وأشركني في أمانته. "ابن سعد".
35806 ۔۔۔ عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سعید بن عاصم عمر (رض) کے پاس آیا زیادہ کا مطالبہ کررہے تھے اپنے اس گھر میں جو بلاط میں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کو چچاؤں کا حصہ تو عمر (رض) نے فرمایا کہ میرے ساتھ فجر کی نماز پڑھیں پھر اپنی حاجت کا اظہار کرتا تو بتاتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا اے امیر المومنین میری حاجت کا جس کا یاد دلانے کے لیے آپ نے کہا تھا وہ فوراً میرے ساتھ چل پڑے اور فرمایا کہ اپنے گھر کی طرف جائیں یہاں میں گھر پہنچا تو مجھے اضافہ کرکے دیا اور اپنے پاؤں سے لکیر کھینچ دیا میں نے کہا اے امیر المومنین کچھ مزید اضافہ فرمائیں کیونکہ میرے بچوں اور گھروالوں میں اضافہ ہوا تو فرمایا تمہیں اتنا کافی ہے اپنے پاس راز میں رکھنا کہ میرے بعد ایسا آدمی خلیفہ ہوگا جو تمہارے ساتھ صلہ رحمی کرے گا اور تمہاری ضرورت پوری کرے گا تو تا یہ میں عمر (رض) کے دور خلافت میں انتظار کرتا رہا یہاں تک عثمان (رض) خلیفہ مقرر ہوئے انھوں نے شوری قائم کیا اور خوش ہوا میرے ساتھ صلہ رحمی کیا اور بہت اچھی طرح کیا میری حاجت پوری کی اور مجھے اپنی امانت میں شریک کیا۔ (ابن سعد)