3584- "ما من عبد مسلم يقول إذا أصبح: الحمد لله ربي الله لا أشرك به شيئا، وأشهد أن لا إله إلا الله، إلا ظل يغفر له ذنوبه حتى يمسي، وإن قالها إذا أمسى ظل يغفر له ذنوبه حتى يصبح". "ابن سعد فر طب وأبو القاسم البغوي في معجمه والباوردي قط في الأفراد وابن السني من طريق أبان بن أبي عياش عن الحكم بن حيان المحاربي عن أبان المحاربي وكان من وفد عبد القيس، قال البغوي لا أعلم له غيره، وقال ابن حجر في الاصابة له ثان وأشار قط إلى أن أبان بن أبي عياش تفرد بهذا الحديث، وهو ضعيف، قلت: وهذا يدخل فيمن اتفق اسم شيخه والراوي عنه".
3584: کوئی بندہ مسلم صبح کو یہ نہیں کہتا : الحمد للہ ربی اللہ لا اشرک بہ شیئا، واشہد ان لا الہ الا اللہ۔ مگر شام تک اس کے گناہوں کی مغفرت کی جاتی ہے۔ اور کوئی بندہ شام کو یہ نہیں کہتا مگر صبح تک اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔ (ابن سعد، الفردوس، الکبیر للطبرانی، المعجم لابی القاسم البغوی الباوردی، الافراد للدارقطنی، ابن السنی) ۔
کلام : مذکورہ کتب میں یہ روایت ابان بن ابی عیاش عن الحکم بن حیان المحاربی عن ابان المحاربی کے طریق سے منقول ہے۔ آخر الذکر ابان المحاربی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے والے مشہور وفد وفد عبدالقیس میں سے ہیں۔ امام بغوی (رح) فرماتے ہیں مجھے ان سے مروی کوئی اور روایت معلوم نہیں۔ علامہ ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں ان سے ایک روایت اس کے علاوہ اور بھی مروی ہے، علامہ دارقطنی (رح) ارشاد فرماتے ہیں کہ ابان بن ابی عیاش اس روایت کو نقل کرنے میں متفرد ہیں۔ اور یہ ضعیف بھی ہیں اور یہ روایت ایسی ہے جس کو حکم بن حیان روایت کرتے ہیں ابان (رض) سے اور حکم سے روایت کرتے ہیں ابان بن ابی عیاش اور یہ ابان بن ابی عیاش چونکہ ضعیف راوی ہے اس لیے روایت محل کلام ہے۔