hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35847

.

كنز العمال

35847
Kanz al-Ummal
35838- عن عباد بن الوليد الغبري ثنا محمد بن موسى الشيباني ثنا الربيع بن عبد الله المدني ثنا عبد الله بن الحسن عن محمد بن علي عن علي أن عمر بن الخطاب قال: يا رسول الله! أخبرني بما رأيت في الجنة ليلة أسري بك، فقال: يا ابن الخطاب! " لو لبثت فيكم ما لبث نوح في قومه ألف سنة أحدثكم عما رأيت في الجنة لما فرغت منه، ولكن يا عمر إذا قلت لي: حدثني، فسأحدثك عما لم أحدث به غيرك، رأيت فيها قصورا أصلها في أرض الجنة وأعلاها في جوف العرش، فقلت: يا جبريل! هي في جوف العرش وأركانها في أرض الجنة؟ قال: لا أدري، قلت يا جبريل! أخبرني من يصير إليها ومن يسكنها - وإذا ضوؤها كضوء الشمس في الدنيا! قال: يسكنها ويصير إليها من يقول الحق ويهدي إلى الحق، وإذا قيل له الحق لم يغضب، ومات على الحق، قلت: يا جبريل! هل تسمي أحدا؟ قال: نعم، رجلا واحدا، قلت: من ذاك الواحد؟ قال: عمر بن الخطاب"، فشهق عمر شهقة فخر مغشيا عليه إلى الغد من تلك الساعة. قال أبو محمد: فحدثني عبد الله بن الحسن أن عمر بن الخطاب لم يضحك ملء فيه بعد ذلك حتى فارق الدنيا. "ابن مردويه".
35838 ۔۔۔ عباد بن ولید سے روایت ہے کہ ہم سے حدیث بیان کی محمد بن موسیٰ شیبانی نے انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ربیع بن عبداللہ مدنی نے انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبداللہ بن حسن نے محمد بن علی سے انھوں نے علی سے کہ عمربن خطاب نے کہا یارسول اللہ مجھے بتائیے کہ جو کچھ آپ نے معراج کی رات دیکھا ہے جنت میں تو ارشاد فرمایا اے ابن خطاب اگر میں تم میں اتنے سالوں تک زندہ رہا جتنے نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں زندہ رہے یعنی ایک ہزار تو میں تمہیں بتلاؤ نگا جو کچھ میں نے دیکھا جنت میں اور کاموں سے فارغ ہوالیکن اے عمر جب تم نے بیان کرنے کی درخواست کی ہم سے بیان کر ہی دیتاہوں جو تمہارے علاوہ کسی اور کے سامنی بیان نہیں کرونگا میں نے اس میں محلات دیکھا لیکن کی بنیاد میں میں تھی اور چھت عرش کے درمیان میں نے جبرائیل سے پوچھا اس کی چھت عرش کے درمیان ہے جب کہ بنیاد زمین میں ؟ تو کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا جبرائیل یہ تو بتائیں یہ کس کو ملیں گے کون ان میں رہائش پذیر ہوگا اس کی روشنی تو ایسی ہے جیسے دنیا میں سورج کی روشن ہوتی ہے تو جبرائیل نے کہا ان میں ہو لوگ رہیں گے جو حق کہتے ہیں اور حق کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جو ان کو حق بیان کردیا جائے تو ناراض نہیں ہوتے اور توحید پر ہی ان کو موت آتی ہے میں نے پوچھا اے جبرائیل مجھے کسی کا نام بھی بتاؤگے ؟ تو کہاں ہاں ایک ہی شخص کا نام بتاؤں گا نے پوچھا وہ ایک کون ہے تو بتایا عمربن خطاب (رض) ہے تو یہ سن کر عمر (رض) نے ایک اور چیخ ماری اور بیہوش رہے ابومحمد نے کہا عبداللہ بن حسن نے بنیا کیا کہ عمر (رض) کو اس کے بعد سے منہ بھر کے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کیا یہاں تک دنیا سے تشریف لے گئے ۔ (ابن مردویہ)