35839- عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم من بعض مغازيه فأتته جارية سوداء فقالت: يا رسول الله؟ إني كنت نذرت إن ردك الله سالما أن أضرب بين يديك بالدف، قال: إن كنت نذرت فاضربي وإلا فلا؛ فجعلت تضرب والنبي صلى الله عليه وسلم جالس، فدخل أبو بكر وهي تضرب، ثم دخل عمر فألقت الدف تحتها وقعدت عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الشيطان ليخاف - وفي لفظ: ليفرق منك يا عمر! إني كنت جالسا وهي تضرب، ثم دخل أبو بكر وهي تضرب، فلما دخلت ألقت الدف تحتها وقعدت عليه. "حم، ع كر".
35839 ۔۔۔ برید ہ (رض) نے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو کالے رنگ کی باندی آئی اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحیح سالم واپس لایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤ نگی تو آپ نے فرمایا اگر تو نے واقعی نظر مانی ہے تو دفب بجالے ورنہ نہیں تو وہ دف بجانے لگے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے ابوبکر صدیق بھی آگئے وہ ابھی تک دف بجاتی رہی پھر عمر (رض) آئے تو باندی نے فورا دف کو زمین پر پھینک دیا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان تم سے ڈرتا ہے اے عمر میں بیٹھا ہوا تھا وہ دف بجاتی رہی پھر ابوبکر (رض) داخل ہوئے وہ دف بجاتی رہی پھر جب تم داخل ہوئے اس نے فوراً دف کو پھینکا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ (احمد ابویعلی ابن عساکر)