35879- "أيضا" عن عبد خير قال: كنت قريبا من علي حين جاءه أهل نجران، قلت: إن كان رادا على عمر شيئا فاليوم! قال: فسلموا واصطفوا بين يديه، ثم أدخل بعضهم يده في كمه وأخرج كتابا فوضعه في يد علي، قالوا: يا أمير المؤمنين! خطك بيمينك وأملأ رسول الله صلى الله عليه وسلم عليك، قال: فرأيت عليا وقد جرت الدموع على خده ثم رفع رأسه إليهم وقال: يا أهل نجران! إن هذا لآخر كتاب كتبته بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قالوا: فأعطنا ما فيه، قال: سأخبركم عن ذلك، إن الذي أخذ منكم عمر لم يأخذه لنفسه، إنما أخذه لجماعة المسلمين، وكان الذي أخذ منكم خيرا مما أعطاكم، والله لا أرد شيئا صنعه عمر! وإن عمر كان رشيد الأمر. "ق".
35879 ۔۔۔ (ایضا) عبدخیرروایت کرتے ہیں کہ میں علی (رض) کے قریب تھا جب ان کے پاس نجران کا وفد آیا میں نے کہا اگر عمر (رض) پروردگار تو وہ آؤ گا دن ہے انھوں نے سلام کیا اور آپ کے سامنے صف باندھ کر بیٹھ گئے ھر بعض نے اپنا ہاتھ قمیص میں داخل کیا ایک خط نکال کر علی (رض) کے سامنے رکھا اور کہا امیر المومنین آپ کی تحریر آپ کے سامنے ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے املاء کروایا تھا تو راوی کا بیان ہے کہ علی (رض) کے آنسو بہہ کر رخسار پر پڑے پھر ان کی طرف سر افھایا اور فرمایا اے اہل نجران یہ آخری خط ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھاتو انھوں نے کہا جو کچھ اس میں ہے ہمیں بتائیں تو علی (رض) نے فرمایا میں تمہیں بتاتاہوں کہ عمر (رض) نے تم سے جو کچھ لیا اپنی ذات کے لیے نہیں لیاوہ مسلمانوں کی جماعت کے لیے لیا ہے اور جو تم سے لیا وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا اللہ کی قسم عمر (رض) کے جو کچھ کیا میں اس کو رد نہیں کرونگا بیشک عمر (رض) معاملہ کے درست فیصلہ کرنے والے تھے۔ (بیہقی)