35880- "أيضا" عن سعد بن أبي وقاص قال: استأذن عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نسوة من قريش يسألنه ويستكثرنه عالية أصواتهن على صوته، فلما استأذن عمر تبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله أضحك! الله سنك ما يضحكك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك تبادرن الحجاب"، فقال عمر: فأنت يا رسول الله! بأبي أنت وأمي كنت أحق أن يهبن، ثم أقبل عليهن فقال: أي عدوات أنفسهن! أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قلن: نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إيه يا ابن الخطاب! والذي نفس محمد بيده! ما لقيك الشيطان سالكا فجا إلا سلك فجا غير فجك ". "خ، م".
35880 ۔۔۔ (ایضا) سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی اس وقت آپ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں آپ سے بیت المال کے مال کا مطالبہ کررہی تھیں اور اصرار کے ساتھ آوازیں بلند کررہی تھیں جب عمر (رض) نے اجازت مانگی جلدی سے پردہ کی اوٹ میں چھپ گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو داخل ہونے کی اجازت دی تو عمرداخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبسم فرما رہے تھے تو عمر (رض) نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ہنسنے کی کیا وجہ ہے ؟ اللہ کے رسول تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو میرے پاس تھیں جب انھوں نے تمہاری آواز سنی فورا پردہ کی اوٹ میں چھپ گئیں تو عمر (رض) نے کہا اے کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈرتیں پھر ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا اے اپنے نفس کے دشمنو تم مجھ سے ڈرتی ہو اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں عورتوں نے کہا ہاں تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ سخت ہو زبان ودل کے اعتبار سے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابن خطاب ہاں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے شیطان بھی جب تم سے راستہ میں ملتا تو فورا راستہ بدل لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)