35973- عن أبي أمية قال: سألت عمر بن الخطاب المكاتبة، قال: فقال لي: كم تعرض؟ قلت: أعرض مائة أوقية، قال: فما استزادني وكاتبني عليها وأراد أن يعجل لي من ماله طائفة؟ قال: وليس عنده يومئذ مال؟ قال: فأرسل إلى حفصة أم المؤمنين: إني كاتبت غلامي وأريد أن أعجل له من مالي طائفة فأرسلي إلي مائتي درهم إلى أن يأتيني شيء، فأرسلت بها إليه، قال: فأخذها عمر ابن الخطاب بيمينه، قال: وقرأ هذه الآية: {وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} . فخذها بارك الله لك فيها، قال: فبارك الله لي فيها، عتقت منها وأصبت منها المال الكثير، فسألته أن يأذن لي إلى العراق، قال: أما إذ كاتبتك فانطلق حيث شئت، قال: فقال لي أناس كاتبوا مواليهم: كلم لنا أمير المؤمنين أن يكتب لنا كتابا إلى أمير العراق نكرم به، قال: وعلمت أن ذلك لا يوافقه فاستحييت من أصحابي، قال: فكلمته فقلت: يا أمير المؤمنين! اكتب لنا كتابا إلى عاملك بالعراق نكرم به، قال: فغضب وانتهرني، ولا والله ما سبني سبة قط ولا انتهرني قط قبلها قال: أتريد أن تظلم الناس؟قال قلت: لا، قال: فإنما أنت رجل من المسلمين يسعك ما يسعهم قال: فقدمت العراق فأصبت مالا وربحت ربحا كثيرا: قال: فأهديت له طنفسة ونمطا ، قال: فجعل يطايبني ويقول: إن ذا لحسن، قال: قلت يا أمير المؤمنين! إنما هي هدية أهديتها لك، قال: إنه قد بقي عليك من مكاتبتك شيء فبع هذا واستعن به في مكاتبتك، فأبى أن يقبل. "ابن سعد".
35973 ۔۔۔ ابوامیہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) سے درخواست کی کہ مجھے مکاتب غلام بنایا جائے تو انھوں نے پوچھا بدل کتابت کتنی اداکریں گے میں نے کہا سواوقیہ (اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے) انھوں نے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا اسی پر مکاتب بنالیا اور چاہیے کہ مجھے اپنے مال کا ایک حصہ معجلا دیدے ان کے پاس اس زمانہ میں مال نہیں تھا اس لیے حفصہ ام المومنین (رض) کے پا پیغام بھیجا کہ میں نے اپنے غلام کو مکاتب بنالیا ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو مال کا ایک حصہ جلدی اداکروں میرے پاس سودرھم بھیج دیں مال آنے تک انھوں نے سودرھم بھیج دئیے عمر (رض) نے وہ درھم دائیں ہاتھ میں لیے اور یہ آیت پڑھی۔ والذین یبتغون الکتاب مماملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واتوھم من مال اللہ الذی اتاکم اور مجھے سے فرمایا یہ لے لو اللہ نے مجھے اس میں برکت عطا فرمادی میں نے اس سے غلام آزاد کئے اور بہت مال کمایا میں نے ان سے درخواست کی مجھے عراق جانے کی اجازت دیدیں تو فرمایا کہ جب میں نے آپ کو مکاتب بنالیا آپ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں کچھ اور لوگوں نے مجھ سے کہا جنہوں نے اپنے آقاؤں سے مکاتب کا معاہدہ کیا ہوا تھا کہ آپ امیر المومنین سے بات کریں کہ ہمیں خط لکھدیں عراق کے گورنر کے پاس تاکہ وہاں ہمارے ساتھ اکرام کا معاملہ ہو مجھے یقین تھا آپ (رض) اس سلسلہ میں میری موافقت نہیں فرمائیں گے تاہم مجھے اپنے ساتھیوں سے شرم آئی اس لیے میں نے آپ (رض) سے بات کی کہ امیر المومنین آپ عراق میں اپنے گورنر کے نام ہمارے لیے خط لکھدیں تاکہ وہاں ہمیں عزت ملے راوی نے بیان کیا کہ وہ غصہ میں آگئے اور مجھے ڈانٹا اللہ کی قسم انھوں نے مجھے گالی نہیں دی نہ اس سے پہلے کبھی ڈانٹا مجھے فرمایا کہ تم چاہتے ہو کہ لوگوں پر ظلم کرو ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا تم ایک مسلمان شخص ہو تمہارے وہی حقوق ہیں جو اوروں کے ہیں میں عراق آیا بہت مال کمایا بہت منافع حاصل کئے میں نے عمر (رض) کو ایک پیالہ اور ایک قالین ھدیہ میں پیش کیا تو میری تعریف کرنے لگے یہ بہت اچھا ہے عمدہ ہے میں نے کہا اے امیر المومنین ہدیہ ہے جو میں نے آپ کے لیے پیش کیا تو فرمایا تمہارے ذمہ بدل کتابت کی کچھ رقم باقی رہ گنی ہے ان کو بیچ کر اس کی ادائیگی میں مدد حاصل کرو اس ہدیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (رواہ ابن سعد)