35974- عن محمد بن سيرين قال: سأل عمر رجلا عن إبله فذكر عجفا ودبرا فقال عمر: إني لأحسبها ضخاما سمانا، فمر عليه عمر وهو في إبله يحدوها ويقول:
أقسم بالله أبو حفص عمر ... ما إن بها من نقب ولا دبر
فاغفر له اللهم إن كان فجر
فقال عمر: ما هذا؟ قال: أمير المؤمنين سألني عن إبلي فأخبرته عنها فزعم أنه يحسبها ضخاما سمانا وهي كما ترى، قال: فإني أنا أمير المؤمنين عمر، ائتني في مكان كذا وكذا، فأتاه فأمر بها فقبضت وأعطاه مكانها من إبل الصدقة. "الحارث".
35974 ۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک شخص سے اس کے اونٹوں کے متعلق پوچھاتو اس نے بتایا کچھ کمزور ہے اور کچھ تازہ تو فرمایا میرے گمان کے مطابق سب موٹے تازے ہیں عمر (رض) کا وہاں سے گذر ہوا وہ اپنے اونٹ کے پیچھے حدی پڑھ رہے تھے۔ اقسم باللہ ابوحفص عمرماان بھا من نقب ولا دبر فاغفر لہ اللھم ان کان فجر ابوحفص عمرنے اللہ کی قسم کھائی کہ اونٹوں میں کوئی دبلا اور کمزور نہیں ۔ اے اللہ ان کی مغفرت فرما اگر انھوں نے گناہ کیا عمر (رض) نے پوچھایہ کیسی باتیں ہیں ؟ بتایا امیر المومنین نے مجھ سے اپنے اونٹوں کے متعلق سوال کیا میں نی ان کو حالات بتائے تو ان کا خیال یہ ہے کہ سب موٹے تازے ہیں حالانکہ اونٹ کی حالت تم دیکھ رہے ہو ۔ فرمایا میں امیر المومنین عمرہوں میرے پاس فلان مقام پر آجاو جب وہ آیا وہ اونٹ لے لئی اور ان کی بدلے میں صدقات کے اونٹوں میں سے دیا۔