35978- عن أسلم أن عمر بن الخطاب طاف ليلة فإذا هو بامرأة في جوف دار لها وحولها صبيان يبكون وإذا قدر على النار قد ملأتها ماء فدنا عمر من الباب فقال: يا أمة الله! ما بكاء هؤلاء الصبيان؟ قالت: بكاؤهم من الجوع، قال: فما هذه القدر التي على النار؟ قالت: قد جعلت فيها ماء هو ذا أعللهم به حتى يناموا وأوهمهم أن فيها شيئا دقيقا، فبكى عمر ثم جاء إلى دار الصدقة وأخذ غرارة وجعل فيها شيئا من دقيق وشحم وسمن وتمر وثياب ودراهم حتى ملأ الغرارة ثم قال: يا أسلم! احمل علي، فقلت: يا أمير المؤمنين! أنا أحمله عنك؟ فقال لي: لا أم لك يا أسلم! أنا أحمله لأني أنا المسؤول عنهم في الآخرة، فحمله حتى أتى به منزل المرأة، فأخذ القدر فجعل فيها دقيقا وشيئا من شحم وتمر وجعل يحركه بيده وينفخ تحت القدر، فرأيت الدخان يخرج من خلل لحيته حتى طبخ لهم، ثم جعل يغرف بيده ويطعمهم حتى شبعوا! ثم خرج وربض بحذائهم حتى كأنه سبع، وخفت أن أكلمه، فلم يزل كذلك حتى لعب الصبيان وضحكوا، ثم قام فقال: يا أسلم! تدري لم ربضت بحذائهم؟ قلت لا، قال: رأيتهم يبكون فكرهت أن أذهب وأدعهم حتى أراهم يضحكون، فلما ضحكوا طابت نفسي. "الدينوري وابن شاذان في مشيخته، كر".
35978 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) ایک رات چکر لگا رہے تھے ایک عورت کو دیکھا وہ اپنے گھر میں ہے اس کے گردو و بچے ہیں جورو رہے ہیں چولہے پر ایک پتیلا رکھ کر اس میں پانی بھردیا عمر (رض) دروازہ کے قریب پہنچے اور پوچھا اے اللہ کی بندی یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟ بتایا بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں اور پتیلا جو چولہے پر رہے اس میں کیا ہے بتایا اس میں پانی ہے تاکہ اس طرح ان کو بہلاؤں اور وہ کھانا سمجھ کر سوجائیں عمر (رض) یہ ماجرا دیکھ کر رو پڑے پھر صدقہ میں آئے ایک بوری لے کر اس میں کچھ آٹا کچھ چوری گھی کھجور کپڑے دارھم ڈالے یہاں تک اس کو بھرلیا پھر فرمایا اسلم اس کو میرے کندھے پر ڈالدو میں نے کہا اے امیر المومنین میں اپ کی طرف سے اٹھاؤں گا فرمایا اے اسلم تیری ماں نہ ہو میں خود اپنے کندھے پر اٹھاؤ نگا اس لیے کہ قیامت کے روز مجھ ہی سے سوال ہوگا۔ اس بوری کو اٹھا کر اس عورت کا گھر پہنچا پتیلا لے کر اس میں کچھ آٹا کچھ چری اور کھجور ڈالی پھر اس کو ہلاتھ سے ملایا پھر چولہے پر رکھ کر آگ پر پھونک مارا میں دیکھ رہا تھا کہ دھواں ان کی ڈاڑھی کے درمیان سے نکل رہا تھا یہاں تک ان کے لیے کھانا تیار کرلیا پھر اپنے ہاتھ سے کھانا نکال کر ان کو کھلایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے پھر ان کے سامنے آکر بیٹھ گئے گویا ان کا پہردار ہے مسلسل وہاں بیٹھے رہے تھے بات کرنے سے ڈر لگا اس لیے کچھ نہیں کہا یہاں تک بچے ہنسنے لگے پھر کہنے لگے اسلم تمہیں معلوم ہے کہ میں وہاں کیوں بیٹھا رہا ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا تھا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کو چھوڑ کر چلاجاؤں یہاں تک کہ ان کو ہنستا ہوا دیکھو جو وہ بجے ہنسنے لگے میرا دل خوش ہوا ۔ (الدینوری وابن شاذان فی مشخیة ابن عساکر)