35981- عن ابن عباس قال: قدم عيينة بن حصن بن بدر فنزل على ابن أخيه الحر بن قيس وكان من النفر الذين يدنيهم عمر وكان القراء أصحاب مجالس عمر ومشاوريه كهولا كانوا أو شبانا، فقال عيينة لابن أخيه: يا ابن أخي! لك وجه عند هذا الأمير فاستأذن لي عليه. فاستأذن له، فأذن له عمر، فلما دخل قال: هي يا ابن الخطاب! فوالله ما تعطينا الجزل ولا تحكم بيننا بالعدل! فغضب عمر حتى هم أن يوقع به، فقال له الحر: يا أمير المؤمنين! إن الله قال لنبيه {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} . وإن هذا من الجاهلين، فوالله ما جاوزها عمر حين تلاها عليه وكان وقافا عند كتاب الله عز وجل. "خ وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه، هب".
35981 ۔۔۔ ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ عینیہ بن حصن بن بدر آیا اور اپنے بھتیجے حربن قیس کے پاس مقیم ہوا یہ اس جماعت میں شامل تھا جن کو عمر (رض) اپنے قریب رکھتے تھے قراء کرام عمر (رض) کی مجلس میں حاضر باش ہوتے تھے بوڑھا ہو یا جوان عینیہ نے اپنے بھیجتے سے کہا اے بھیجتے اس امیر کے پاس تمہارا مقام ہے لہٰذا تم میرے لیے ان کے پاس داخل ہونے کی اجازت لو انھوں نے اجازت لی عمر (رض) نے اجازت دے دی جب مجلس میں پہنچاتو کہا اے ابن الخطاب نہ تو ہم کو بڑا عطیہ دیتا ہے نہ ہم میں انصاف سے فیصلہ کرتا ہے عمر (رض) کو غصہ آیا یہاں تک قتل کا اراد ہ کیا توحر (رض) نے کہا اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ” خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین اور یہ جاھلین میں سے جب یہ آیت پڑھ کر سنائی عمر (رض) نے اس سے آگے نہ پڑھا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو خوب جاننے والا ہے (بخاری ابن مندر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ بیہقی)