36007- عن عطاء قال: كان عمر بن الخطاب يأمر عماله أن يوافوه بالموسم فإذا اجتمعوا قال: يا أيها الناس! إني لم أبعث عمالي عليكم ليصيبوا من أبشاركم ولا من أموالكم ولا من أعراضكم، إنما بعثتهم ليحجزوا بينكم وليقسموا فيئكم بينكم، فمن فعل به غير ذلك فليقم، فما قام أحد إلا رجل واحد قام فقال: يا أمير المؤمنينّ! إن عاملك فلانا ضربني مائة سوط، قال: فيم ضربته؟ قم فاقتص منه، فقام عمرو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين! إنك إن فعلت هذا يكثر عليك ويكون سنة يأخذ بها من بعدك، فقال: أنا لا أقيد وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيد من نفسه! قال: فدعنا فلنرضه، قال: دونكم فأرضوه، فافتدى منه بمائتي دينار عن كل سوط بدينارين. "ابن سعد وابن راهويه".
36007 ۔۔۔ عطاء سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) اپنے اعمال کو حکم فرماتے تھے کہ موسم حج میں جمع ہوجائیں جب جمع ہوگئے تو فرمایا اے لوگو میں نے اپنے گورنروں کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تاکہ تمہاری کھال اتاریں یا تمہارے مال پر قبضہ کریں یا تمہاری عزت سے کھیلیں بلکہ میں نے آن کو اس لیے بھیجا تاکہ تم سے ظلم کو دور کریں مال غنیمت کو تم یہاں تقسیم کر دین جس کے ساتھ اس کے علاوہ معاملہ کیا وہ کھڑا ہوجائے کوئی بھی کھڑا نہیں ہواسوائے ایک شخص کے اس نے کھڑے ہو کر کہا اے امیر المومنین کہ آپ کے فلاں گورنرنے مجھے سوکوڑے مارے ان سے پوچھاکس جرم کی سزا میں مارا ؟ عمروبن العاص کھڑا ہوئے اور کہا امیر المومنین اگر آپ نے گورنوں سے برسرعام با ز پرس شروع کی تو شکایات کا انبار لکگ جائے گا اور آپ کے بعد آنے والوں کے لیے ایک سنت بن جائے گی تو فرمایا کیا میں بدلہ نہ دلاؤں جب کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ اپنے نفس سے بھی بدلہ دلاتے تھے تو عمربن العاص نے کہا کہ ہم اس مظلوم کو راضی کرلیتے ہیں تو فرمایا کرلوتو ان کو دو سو دینا ردے کر راضی کرلیا ہر کوڑے پر دو دینار ۔ (ابن سعد ابن راھویہ)