36010- عن أنس أن رجلا من أهل مصر أتى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين! عائذ بك من الظلم، قال: عذت معاذا، قال: سابقت ابن عمرو بن العاص فسبقته، فجعل يضربني بالسوط ويقول: أنا ابن الأكرمين، فكتب عمر إلى عمرو يأمره بالقدوم ويقدم بابنه معه، فقدم، فقال عمر: أين المصري؟ خذ السوط فاضرب، فجعل يضربه بالسوط ويقول عمر: اضرب ابن الأكرمين. قال أنس، فضرب، فوالله لقد ضربه ونحن نحب ضربه، فما أقلع عنه حتى تمنينا أنه يرفع عنه، ثم قال عمر للمصري: ضع السوط على صلعة عمرو، فقال: يا أمير المؤمنين! إنما ابنه الذي ضربني وقد استقدت منه، فقال عمر لعمرو:مذ كم تعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا؟ قال: يا أمير المؤمنين! لم أعلم ولم يأتني. "ابن عبد الحكم".
36010 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا اور کہا امیر المومنین ظلم سے آپ کی پناہ چاہتاہوں تو فرمایا آپ نے پناہ کی جگہ پناہ تلاش کی عرض کیا میں نی عمروبن العاص کے بیٹے سے مقابلہ کیا تو ان سے سبقت لے گیا تو مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہنے لگامیں مکر م شخص کا بیٹاہوں تو عمر (رض) نے عمروبن العاص کو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوجائے تو وہ آگئے عمر (رض) نے پوچھا یہ مصری کہاں ہے ؟ یہ کوڑا لو اور تم بھی مارو وہ کوڑے سے مارنے لگاعمررض اللہ عنہ فرما رہے تھے ابن الاکر میں کو ماروانس (رض) کہتے ہیں اس نے مارا واللہ ہم اس کے مارں ے کو پسند کررہے تھے مسلسل مارتے رہے یہاں تک ہمارا خیال ہوا کہ اب چھوڑ دے پھر عمر (رض) غنہ نے مصری سے فرمایا کہ کوڑے کو عمر (رض) کے گنجے سرپررکھ دے اس نے عرض کیا یا امیر المومنین ان کے بیٹے نے مچھے مارا تھا میں نے بدلہ لے لیا ہے تو عمر (رض) نے عمرو (رض) سے کہا کب سے تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنالیاہی جب کہ ان کی ماؤں انہین آزاد جنا ہے ؟ تو عرض کیا امیر المومنین مجھے نہ اس واقعہ کا علم تھا نہ یہ میرے پاس آیا۔ (ابن عبدالحکیم)