36011- عن مليح بن عوف السلمى قال: بلغ عمر بن الخطاب أن سعد بن أبي وقاص صنع بابا مبوبا من خشب على باب داره وخص على قصره خصا من قصب، فبعث محمد بن مسلمة وأمرني بالمسير معه وكنت دليلا بالبلاد، فخرجنا وقد أمره أن يحرق ذلك الباب وذلك الخص وأمره أن يقيم سعدا لأهل الكوفة في مساجدهم، وذلك أن عمر بلغه عن بعض أهل الكوفة أن سعدا حابى في بيع خمس باعه، فانتهينا إلى دار سعد فأحرق الباب والخص، وأقام محمد سعدا في مساجدها فجعل يسألهم عن سعد ويخبرهم أن أمير المؤمنين أمره بهذا، فلا يجد أحدا يخبره إلا خيرا. "ابن سعد".
36011 ۔۔۔ صبیح بن عوف سلمی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) کو یہ خبرپہنچی سعد بن ابی وقاص نے اپنے گھر کے لیے لکڑی کا دروازہ بنالیا ہے اور اپنے محل کے لیے بانس کا کمرہ بنالیا ہے محمد بن مسلمہ کو بھیجا اور مجھے بھی حکم ہوا کہ ان کے ساتھ چلوں میں شہروں میں راستہ بتلانے والا تھان کو کم دیا کہ یہ دروازہ اور یہ کمرہ جلادیا جائے اور حکم دیا کہ سعد کو اہل کوفہ کے لیے ان کی مساجد میں قیام کروایا جاءے یہ اس لیے ہوا کہ عم (رض) کو بعض اہل کوفہ نے خبرپہنچائی تھی کہ سعد مال غنیمت کے خمس کو فروخت کرتے ہیں۔ ہم وہاں پہنچے سعد (رض) کے گھر تک دروازہ اور حجرہ کو جلادیا اور محمد بن مسلمہ نے سعد (رض) کو مسجد میں ٹھہرایا اور لوگوں سے سعد کے متعلق سوالات کئے کہ امیر المومنین نے ان کو اس کا حکم دیا ہے لیکن ہر ایک نے سعد (رض) کی تعریف ہی کی برائی کرنے والا کوئی نہ ملا۔ (رواہ ابن سعد)