36013- عن أسلم قال: سمعت عمرو بن العاص يوما ذكر عمر فترحم عليه ثم قال: ما رأيت أحدا بعد نبي الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر أخوف لله من عمر، لا يبالي على من وقع الحق على ولد أو والد، ثم قال: والله إني لفي منزلي ضحى بمصر إذ أتاني آت فقال: قدم عبد الله وعبد الرحمن ابنا عمر غازيين، فقلت للذي أخبرني: أين نزلا؟ فقال: في موضع كذا وكذا - لأقصى مصر - وقد كتب إلي عمر: إياك أن يقدم عليك أحد من أهل بيتي فتحبوه بأمر لا تصنعه بغيره فأفعل بك ما أنت أهله، فأنا لا أستطيع أن أهدي لهما ولا آتيهما في منزلهما خوفا من أبيهما، فوالله إني لعلى ما أنا عليه - إلى أن قال قائل: هذا عبد الرحمن بن عمر وأبو سروعة على الباب يستأذنان، فقلت: يدخلان، فدخلا وهما منكسران وقالا: أقم علينا حد الله فأنا قد أصبنا البارحة شرابا فسكرنا، فزبرتهما وطردتهما، فقال عبد الرحمن: إن لم تفعل أخبرت أبي إذا قدمت عليه، فحضرني رأي وعلمت أني إن لم أقم عليها الحد غضب علي عمر في ذلك وعزلني وخالفه ما صنعت، فنحن على ما نحن عليه إذ دخل عبد الله بن عمر فقمت إليه فرحبت به وأردت أن أجلسه على صدر مجلسي فأبى علي وقال: إن أبي نهاني أن أدخل عليك إلا أن لا أجد بدا وإني لم أجد بدا من الدخول عليك، إن أخي لا يحلق على رؤوس الناس أبدا، فأما الضرب فاصنع ما بدا لك، قال: وكانوا يحلقون مع الحد، قال: فأخرجتهما إلى صحن الدار فضربتهما الحد، ودخل ابن عمر بأخيه عبد الرحمن إلى بيت من الدار فحلق رأسه ورأس أبي سروعة، فوالله ما كتبت إلى عمر بحرف مما كان حتى إذا تحينت كتابي فإذا هو يطم فيه: بسم الله الرحمن الرحيم من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاصي بن العاصي، فعجبت لك يا ابن العاصي ولجرأتك علي وخلاف عهدي، أما إني قد خالفت فيك أصحاب بدر ممن هو خير منك واخترتك لجرأتك عني وإنفاذ عهدي فأراك تلوثت بما قد تلوثت، فما أراني إلا عازلك ومنشي عزلك تضرب عبد الرحمن بن عمر في بيتك وتحلق رأسه في بيتك وقد عرفت أن هذا يخالفني! إنما عبد الرحمن رجل من رعيتك تصنع به ما تصنع بغيره من المسلمين ولكن قلت: هو ولد أمير المؤمنين، وقد عرفت أن لا هوادة لأحد من الناس عندي في حق يجب لله عليه، فإذا جاءك كتابي هذا فابعث به في عباءة على قتب حتى يعرف سوء ما صنع، فبعثت به كما قال أبوه وأقرأت ابن عمر كتاب أبيه وكتبت إلى عمر كتابا أعتذر فيه وأخبره أني ضربته في صحن داري، وبالله الذي لا يحلف بأعظم منه إني لأقيم الحدود في صحن داري على الذمي والمسلم، وبعثت بالكتاب مع عبد الله بن عمر، قال أسلم: فقدم بعبد الرحمن على أبيه فدخل عليه وعليه عباءة ولا يستطيع المشي من مركبه، فقال: يا عبد الرحمن! فعلت وفعلت؟ السياط! فكلمه عبد الرحمن بن عوف فقال: يا أمير المؤمنين! قد أقيم عليه الحد مرة فما عليه أن تقيمه ثانية. فلم يلتفت إلى هذا عمر وزبره، فجعل عبد الرحمن يصيح: إني مريض وأنت قاتلي! فضربه الثانية الحد وحبسه. ثم مرض فمات. "ابن سعد".
36013 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمروابن العاص کو ایک دن عمر (رض) کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے لیے رحمت کی دعا کی پھر کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے بعد عمر (رض) سی زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا کسی کو نہیں دیکھاپروا نہیں کرتا حق کس کے خلاف وقعہ ہو والد کے خلاف بیٹے کے خلاف پھر کہا اللہ کی قسم میں چاشت کی وقت مصر میں اپنے گھر میں تھا ایک شخص نے آکر خبردی کہ عمر (رض) کے بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمن غازی ہو کر آئے ہیں میں نے خبردینے والے سے کہاں کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں تو بتایا فلان فلاں مقام پر مصر کے آخری حصہ میں عمر (رض) نے میرے پاس خط لکھا خبردار اگر میرے گھر کے افراد میں سے کوئی تمہارے پاس آئے تو ان کے ساتھ دوسروں سے امتیازی سلوک نہ کرنا ورنہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرونگا جس کا آپ اہل ہیں اب میں نہ ان کو کوئی ہدیہ دے سکتا تھا نہ ان کے قیامت گاہ پہنچ سکتا تھا ان کے والد کے خوف واللہ میں اسی ترود میں تھا ایک صاحب نے آکر خبردی کہ عبدالرحمن بن عمر (رض) اور ابوسروعہ دروازہ پر حاضر ہیں اندر آنے کی جازت مانگ رہے ہیں میں نے کہا دونوں کو اندر بلاؤ دونوں آگئے اور انتہائی خستہ حال اور دونوں نے کہا ہم پر حد قائم کریں ہم نے رات کو شراب پیا ہے اور ہم نشہ میں تھے میں نے ان کو ڈانٹ دیا اور دھتکار دیا تو عبدالرحمن نے کہا اگر آپ حد قائم نہیں کریں گے تو میں والد کو اطلاع کروں گا میں وہاں پہنچ جاؤں گا اب مجھے خیال ہوا کہ اگر میں نے اس پر حد قائم نہ کی تو عمر (رض) مجھ سے ناراض ہوں گے مجھے معزول کروں اور میرے برتاؤ کے خلاف کر ہم ابھی اسی میں تھے کہ عبداللہ بن عمر (رض) تشریف لے آئے میں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا میں نے ان کو مجلس کے درمیان میں بیٹھانا چاہاتو انھوں نے انکار کردیا کہ میرے والد نے بلاضرور تمہارے پاس آنے سے منع کیا ہے اب میں ایک ضرورت سے آیاہوں کہ میرے بھائی کا عام مجمع میں ہرگز سرنہ منڈائیں باقی کو جی سے چاہیں ماریں راوی نے بتایا کہ وہ کوڑے مارنے کے ساتھ سربھی منڈاتے تھے اب میں نے دونوں کو گھر کے صحن میں نکالا اور کوڑے مارے ابن عمر (رض) اپنے بھائی کو لے کر ایک گھر میں داخل ہوئے اور ان کا سرمنڈیا اور ابی سروعہ کا اللہ کی قسم میں نے اس واقعہ کے متعلق عمر (رض) کو کچھ بھی نہیں لکھاحتی کہ جب مجھے وقت مقررہ پر خط ملا اس میں لکھا ہوا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کا بندہ عمر امیرالمومنین کی طرف سے عاصی بن عاصی کی طرف اے ابن عاصمی مجھے تمہاری جرات پر اور میرے عہد کی خلاف ورزی پر سخت تعجب ہوا میں نے تمہارے متعلق بدری صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت کی ان کے بارے میں جو تم سے بہتر تھے میں گورنری کے لیے تمہارا انتخاب کیا تمہاری جرات کی وجہ سے اب میں یہی سمجھتا ہوں تمہیں معزول کردوں میرا معزول کرنے کا منشاء تمہارا عبدالرحمن بن عمر کو گھر کے اندر کوڑے لگوانا اور گھر کے اندر ہی سرمنڈانا ہے تمہیں معلوم ہے یہ میری ہدایت کے خلاف تھا عبدالرحمن تمہاری رعایاکا ایک فرد ہے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا چاہیے تھا لیکن تم نے کہا وہ امیر المومنین کا لڑکا ہے تمہیں معلوم ہے کہ میرے نزدیک کسی کے ساتھ نرمی نہیں کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی حد کے متعلق جو اس پر لازم ہوگئی ہے جب میرا خط تمہارے پاس پنچ جائے تو فورا اس کو میرے پاس بھیج دو پاؤں میں بیڑی ڈال کر اونٹ کے پالان کے ساتھ باندھ کرتا وہ اپنے فعل کا برانجام دیکھ لے میں نے ان کو باپ کی ہدایت کے مطابق بھیج دیا اور ابن عمر (رض) کو باپ کا خط پڑھوا دیا اور عمر (رض) کے نام ایک خط لکھا جس میں نے معذرت کی اور یہ بتلا دیا کہ میں نے اس کو گھر کے صحن میں کوڑے لگائے میں اللہ کی قسم اس سے بڑی قسم نہیں کھائی جاتی میں ذمی اور مسلمانوں پر اپنے گھر کے صحن ہی میں حدلگاتا ہوں اور میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ خط بھیجدیا اسلم (رض) کہتے ہیں عبدالرحمن کو اپنے والد کی خدمت میں حاضر کیا گیا عمر (رض) اندر آئے عبدالرحمن کے پاؤں میں زنجیر تھا بوجھ کی وجہ سے اٹھا نہیں پارہا تھا فرمایا اے عبدالرحمن تو نے ایک غلط کام کیا اور کوڑے لگانی والے نے ایک غلط کام کیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اس بارے میں بات کی امیر المومنین ان کو ایک مرتبہ حد لگائی جاچکی ہے اب آپ دوبارہ حد نہیں لگاسکتے عمر (رض) نے اس طرف التفات نہیں کیا بلکہ ان کو جھڑک دیاعبد الرحمن چیختے رہے میں بیمار ہوں آپ میرے قاتل میں ان پر دوبارہ حد لگائی گئی پھر قید میں ڈالا گیا پھر مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ (رواہ ابن سعد)