36033- عن شهر بن حوشب قال قال عمر بن الخطاب: لو استخلفت سالما مولى أبي حذيفة فسألني عنه ربي: ما حملك على ذلك؟ لقلت: يا رب! سمعت نبيك وهو يقول: إنه يحب الله حقا من قلبه، ولو استخلفت معاذ بن جبل فسألني عنه ربي: ما حملك على ذلك؟ لقلت: يا رب سمعت نبيك محمدا صلى الله عليه وسلم يقول: إن العلماء إذا حضروا ربهم كان معاذ بن جبل بين أيديهم رتوة بحجر. "حل". وفي حديث فاطمة "أنها أقبلت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: ادني يا فاطمة فدنت رتوة، ثم قال لها: ادني يا فاطمة، فدنت رتوة" الرتوة وههنا: الخطوة. النهاية 2/195. ب.
36033 ۔۔۔ شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ اگر میں سالم مولی ابی حذیفہ خلیفہ مقرر کروں تو اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے سولا کرے کہ اس کو کیوں خلیفہ بنایا تو میں عرض کرونگا اے رب میں تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دلی محبت کرتا ہے اگر میں معاذبن جبل کو خلیفہ مقرر کردوں پھر اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے اس پر تو عرض کردوں گا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرمائے ہوئے سنا ہے کہ جب علماء قیامت کے دن اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے تو معاذ بن جبل (رض) ان کے آگے ہوگا ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ پر۔ (حلیة الاولیاء)