36034- عن ابن عباس قال: أنا أول الناس أتي عمر حين طعن ، فقال : يا ابن عباس ! احفظ عني ثلاثا فاني أخاف أن لا يدركني الناس : إني لم أقض في الكلالة ، ولم استخلف على الناس خليفة ، وكل مملوك لي عتيق ، فقيل له : استخلف قال : أي ذلك فعلت فقد فعله من هو خير مني ، إن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني أبو بكر ، وإن أدع الناس إلى أمرهم فقد تركه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قلت : أبشر بالجنة يا أمير المؤمنين ! صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطلت صحبته ثم وليت فعدلت وأديت الامانة ، فقال عمر : أما تبشيرك أياي بالجنة فوالله الذي لا إله إلا هو لو أن لي ما بين السماء والارض لافتديت به مما هو أمامي قبل أن أعلم الخبر ! وأما ما ذكرت من أمر المسلمين فو الله لوددت أني نجوت منه كفافا لا علي ولا لي وأما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذاك (عب ، ط ، حم وابن سعد).
36034 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں پہلا شخص ہوں جو عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا جس وقت ان کو نیز ہ مارا گیا فرمایا ابن عباس مجھ سے تین باتیں محفوظ کرلو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھ سے مل نہیں پائیں گے۔ (1) میں نے کلالہ کی میراث کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا (2) میں نے لوگوں پر کسی کو خلیفہ نہیں بنایا (3) میرے مملوکہ تمام غلام آزاد ہیں ان سے کہا گیا کہ خلیفہ مقرر کریں تو فرمایا میں وہی کام کروں گا جو مجھ سے پہلے تجھ سے بہتر حضرات نے کیا اگر میں خلیفہ مقرر کردوں تو مجھ سے بہتر شخص صدیق اکبر نے بھی خلیفہ مقرر کردیا اگر میں خلافت کا معاملہ لوگوں پر چھوڑ دو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس معاملہ کو لوگوں پر چھوڑ دیا تھا میں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو جنت کی بشارت ہو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی اور بہت طویل زمانہ تک اختیار کیا پھر خلیفہ مقرر ہوئے انصاف قائم کیا اور امانت کو ادا کیا تو عمر (رض) نے فرمایا تمہارا مجھے جنت کی بشارت دینا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر مجھے آسمان و زمین کے خزانہ بھی مل جائے میں اپنے سامنے کے نازل آسانی سے طے کرنے کی خاطر فدیہ میں سب دے ڈالوں گا اس سے پہلے کہ مجھے خبرمعلوم ہوجائے باقی تم نے جو مسلمانوں کا معاملہ ذکر کیا ہے میں تو اتنا چاہتاہوں کہ برابر سرا بر چھوٹ جاؤں نہ میرے ذمہ کوئی گناہ لازم ہو نہ مجھے کوئی ثواب دیا جائے باقی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کا جو ذکر ہوا ہے ہاں یہ ایک بات امید افزا ہے۔ ( عبدالرزاق ابوداؤد الطیالسی احمد وابن سعد)