(36036) عن القاسم بن محمد أن عمر بن الخطاب حين طعن جاء الناس يثنون عليه ويودعونه فقال عمر : أبالامارة تزكونني ؟ لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض الله رسوله وهو عني راض ، ثم صحبت أبا بكر فسمعت وأطعت فتوفي أبو بكر وأنا سامع مطيع وما أصبحت أخاف على نفسي إلا إمارتكم هذه (ابن سعد ، ش).
36036 ۔۔۔ قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عمربن خطاب کو جس وقت نیز ہ مارا گیا لوگ جمع ہوئے اور ان کی تعریفیں بیان کرنے لگے کچھ لوگ الوداع کہہ رہے تھے عمر (رض) نے کہا کیا تم امارت کے باوجود میری تعریف کررہے ہو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی روح قبض فرمائی وہ مجھ سے راضی تھے پھر میں ابوبکر صدیق (رض) کی صحبت میں رہا ان کی مکمل اطاعت کی پھر ابوبکر صدیق (رض) کا انتقال ہوا میں ان کا مکمل اطاعت گذار تھا مجھے سب سے زیادہ اندیشہ تمہاری اس امارت کا ہے۔ (ابن سعدابن ابی شبیہ)