36044 عن عمرو بن ميمون قال : شهدت عمر يوم طعن فما منعني أن أكون في الصف المقدم إلا هيبته وكان رجلا مهيبا فكنت في الصف الذي يليه ، وكان عمر لا يكبر حتى يستقبل الصف المقدم بوجهه ، فان رأى رجلا متقدما من الصف أو متأخرا ضربه بالدرة ، فذلك الذي منعني منه ، وأقبل عمر فعرض له أبو لؤلؤة فطعنه ثلاث طعنات ، فسمعت عمر وهو يقول هكذا بيده قد بسطها : دونكم الكلب قد قتلني ! وماج الناس بعضهم في بعض ، فصلى بنا عبد الرحمن بن عوف بأقصر سورتين في القرآن (إذا جاء نصر الله) ، (وإنا أعطيناك الكوثر) واحتمل عمر فدخل الناس عليه فقال : يا عبد الله بن عباس ! اخرج فناد في الناس ! أيها الناس ! إن أمير المؤمنين يقول : أعن ملا منكم هذا ؟ فقالوا : معاذ الله ! ما علمنا ولا اطلعنا ، فقال ادعوا لي طبيبا ، فدعي له الطبيب فقال : أي شراب أحب إليك ؟ قال : نبيذ ، فسقي نبيذا فخرج من بعض طعناته فقال الناس : هذا صديد ، اسقوه لبنا ، فسقي لبنا فخرج فقال الطبيب : ما أراك تمسي ، فما كنت فاعلا فافعل ، فقال : يا عبد الله بن عمر ! ايتني بالكتف التي كتبت فيها شأن الجد بالامس ! فلو أراد الله أن يمضي ما فيه أمضاه ، فقال له ابن عمر : أنا أكفيك محوها ، فقال : لا والله لا يمحوها أحد غيري ، فمحاها عمر بيده وكان فيها فريضة الجد ، ثم قال : ادعوا لي عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا ، فلما خرجوا من عنده قال عمر : إن ولوها الاجلح سلك بهم الطريق ، فقال له ابن عمر : فما يمنعك يا أمير المؤمنين : قال ؟ أكره أن أتحملها حيا وميتا (ابن سعد والحارث ، حل واللالكائي في السنة ، وصحح).
36044 ۔۔۔ عمروبن میمون سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا میں ان کے خدمت میں حاضر ہوا مجھے نماز کی صف او ل میں حاضری ہے ان کی ہیبت مانع ہوئی کیونکہ وہ بارعب آدمی تھے لہٰذا میں دوسری صف میں کھڑا ہو عمر (رض) تکبیر تحریمہ سے پہلے صف کو دیکھتے تھے اگر کوئی شخص صف سے آگے نکلا ہوا اس کو پیچھے کرتے اور اگر کوئی پیچھے ہٹا ہوا اس کو صف میں کھڑے کے لیے درہ لگاتے تھے یہی چیز صف اول میں کھڑا ہونے سے میرے لیے مانع ہوئی عمر (رض) متوجہ ہوئے تو ابولؤلؤ نے اس کو تین نیزے مارے میں نے سنا عمر (رض) کہہ رہے ہاتھ پھیلا کر کتے کو پکڑ و اس نے مجھے قتل کردیا ہے لوگ ایک دوسرے میں گھس پڑے ہمیں عبدالرحمن بن عوف نے قرآن کی مختصر ترین سورتوں سے نماز پڑھا دی۔ انا اعطینک الکوثر ، اذاجاء نصر اللہ ان کو اٹھا کر گھر لایا گیا فرمایا اے عبداللہ بن عباس (رض) جا کر لوگوں میں آواز لگائیں کہ امیر المومنین کہہ رہے ہیں تمہارے مشورہ سے ایسا ہوا ہے لوگوں نے کہا معاذ اللہ نہ ہمیں اس کا علم ہے نہ ہمیں اس کی اطلاع ہے فرمایا میرے لیے کوئی معالج تلاش کرو ایک طبیب بلا کر لایا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کونسی شراب آپ کو محبوب ہے ؟ فرمایا نبیذ ان کو نبیذ پلایا گیا تو زخم کے ایک سوراخ سے نکل گیا لوگوں نے کہا یہ پیپ نکلا ہے ان کو دودھ پلاؤ تو دودھ پلایا گیا تو زخم سے نکل گیا تو طبیب نے کہا میرے خیال میں شام تک زندہ نہیں رہیں گے جو معاملات کرنا ہے کرلیں۔ تو فرمایا اے عبداللہ بن عمر میرے پاس شانہ کی وہ ہڈی لے آؤ جس میں کل میں نے دادا کی میراث کا مسئلہ لکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ کو یہ مسئلہ جاری رکھنا منظور ہو تو جاری رکھیں گے ابن عمر (رض) نے کہا میں اس ومٹادوں گا تو فرمایا نہیں اللہ کی قسم میرے علاوہ کوئی نہیں مٹائے گا تو عمر (رض) نے اپنے ہاتھ سے مٹادیا اس میں دادا کا حصہ بھی تھا پھر فرمایا علی (رض) عثمان (رض) طلحہ (رض) زبیر (رض) عبدالرحمن بن عوف (رض) اور سعد (رض) کو بلاکر لاؤ۔ جب یہ حضرات عمر (رض) کے پاس سے نکلے تو فرمایا اگر یہ کسی بےضررشخص کو اپنا ولی بنالیں تو اللہ ان کو سیدھے راستہ پرچلائے گا تو ابن عمر (رض) نے کہا اے امیر المومنین آپ خود کیوں امیر مقرر فرما نہیں دیتے ۔ تو فرمایا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ زندگی اور موت کے بعد دونوں حالت میں امارت کا بوجھ برداشت کروں ۔ (ابن سعد والحارث حلیة اولیاء والا لکانی فی السنة و صحیح)