36048 عن ابن شهاب قال : كان عمر لا يأذن لسبي قد احتلم في دخول المدينة حتى كتب المغيرة بن شعبة وهو على الكوفة يذكر له غلاما عنده صنعا ويستأذنه أن يدخله المدينة ويقول : إن عنده أعمالا كثيرة فيها منافع للناس ، إنه حداد نقاش نجار ، فكتب إليه عمر فأذن له أن يرسل به إلى المدينة ، وضرب عليه المغيرة مائة درهم كل شهر ، فجاء إلى عمر يشتكي إليه شدة الخراج ، فقال له عمر : ماذا تحسن من العمل ؟ فذكر له الاعمال التي يحسن ، فقال له عمر : ما خراجك بكثير في كنه عملك ، فانصرف ساخطا يتذمر ، فلبث عمر ليالي ثم إن العبد مر به فدعاه فقال له : الم احدث أنك تقول : لو أشاء لصنعت رحى تطحن بالريح ؟ فالتفت العبد ساخطا عابسا إلى عمر ومع عمر رهط فقال : لاصنعن لك رحى يتحدث الناس بها ! فلما ولى العبد أقبل عمر على الرهط الذين معه فقال لهم : أوعدني العبد آنفا ، فلبث ليالي ثم اشتمل أبو لؤلؤة على خنجر ذي رأسين نصابه في وسطه فكمن في زارية من زوايا المسجد في غلس السحر ، فلم يزل هنالك حتى خرج عمر يوقظ الناس للصلاة صلاة الفجر وكان عمر يفعل ذلك ، فلما دنا منه عمر وثب عليه فطعنه ثلاث طعنات إحداهن تحت السرة وقد خرقت الصفاق وهي التي قتلته ، ثم انحاز أيضا على اهل المسجد فطعن من يليه حتى طعن سوى عمر أحد عشر رجلا ثم انتحر بخنجره فقال عمر حين أدركه النزف وانقصف الناس عليه : قولوا لعبد الرحمن بن عوف : فليصل بالناس ، ثم غلب عمر النزف حتى غشي عليه ، قال ابن عباس : فاحتملت عمر في رهط حتى أدخلته بيته ، ثم صلى بالناس عبد الرحمن فأنكر الناس صوت عبد الرحمن قال ابن عباس : فلم أزل عند عمر ولم يزل في غشية واحدة حتى أسفر الصبح ، فلما أسفر أفاق فنظر في وجوهنا فقال : أصلى الناس ؟ فقلت : نعم ، فقال : لا إسلام لمن ترك الصلاة ، ثم دعا بوضوء فتوضأ ثم صلى ، ثم قال : اخرج يا عبد الله بن عباس فسل من قتلني ؟ قال ابن عباس : فخرجت حتى فتحت باب الدار فإذا الناس مجتمعون جاهلون بخبر عمر فقلت : من طعم أمير المؤمنين ؟ فقالوا : طعنه عدو الله أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة ، قال : فدخلت فإذا عمر يبد في النظر ويستأني خبر ما بعثني إليه ، فقلت : أرسلني أمير المؤمنين لاسأل عمن قتله ، فكلمت الناس فزعموا أنه طعنه عدو الله أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة ثم طعن معه رهطا ثم قتل نفسه ، فقال : الحمد لله الذي لم يجعل قاتلي يحاجني عند الله بسجدة سجدها له قط ، ما كانت العرب لتقتلني أنا أحب إليها من ذلك ، قال سالم فبكى عليه القوم حين سمعوا فقال : لا تبكوا علينا ، من كان باكيا فليخرج ، ألم تسمعوا ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال : يعذب الميت ببكاء أهله عليه. فمن أجل ذلك كان عبد الله بن عمر لا يقر أن يبكى عنده على هالك من ولد ولا غيرهم ، وكانت عائشة رضى الله عنها تقيم النوح على الهالك من أهلها. فحدثت بقول عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يرحم الله عمر وابن عمر فو الله ما كذبا ، ولكن عمر وهل إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على نوح يبكون على هالك لهم فقال : إن هؤلاء يبكون وإن صاحبهم ليعذب وكان قد اجترم ذلك (ابن سعد).
36048 ۔۔۔ اب شباب سے روایت ہے کہ عمر (رض) بالغ قیدیوں کو مدینہ منورہ داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے یہاں تک مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ایک دفعہ کوفہ سے کط لکھا اس میں ایک لڑکے کا تذکرہ تھا وہ مدینہ منورہ داخل ہونا چاہتا ہے اس کے پاس بہت سے اوصاف ہیں اس میں لوگوں کا بڑا فائدہ ہوگا وہ لوہار بھی ہے نقش ونگاری اور بڑھئی کا کام بھی جانتا ہے عمر (رض) نے جواب لکھا اور اس لڑکے کو مدینہ منورہ بھیجنے کی اجازت مرحمت فرمائی اس پر مغیرہ (رض) نے ہر ماہ سودرھم ٹیکس عائد کیا وہ عمر (رض) کے پاس آیا اور ٹیکس زیادہ ہونے کی شکایت کی عمر (رض) نے اس لڑکے سے پوچھا تمہیں کس کس کام میں مہارت ہے ؟ اس نے کام گنوادیا عمر (رض) نے فرمایا تمہارے کام کے مقابلہ میں ٹیکس زیادہ نہیں ہے وہ ناراض ہو کر بڑ بڑا تا ہواچلا گیا عمر (رض) نے چند راتیں گذاریں اس کے بعد ایک دن وہ لڑکا وہاں سے گذرا تو اس کو بلا کر پوچھا کیا مجھ سے نہیں کہا گیا کہ تم کہتے ہو کہ اگر میں چاہوں تو ایسی ج کی بناکتاہوں جو ہوا سے چلنی والی ہو اس غلام نے غصہ سے منہ بناکر عمر (رض) کی طرف دیکھا عمر (رض) کے ساتھ جماعت تھی اس نے کہا میں آپ کے لیے ایک ایسی چکی بناؤں گا کہ لوگ اس کے متعلق باتیں کریں گے جب غلام چلا گیا تو عمر (رض) نے قوم سے فرمایا یہ غلام مجھے دھمکی دے کر گیا چند ہی دن گذرے تھے ابوداؤد ایک دود والی کنجر کو کپڑے میں لپیٹ کر اندھیرے میں مسجد کے ایک کونہ میں چھپ گیا وہ وہیں ٹھہرا رہا یہاں تک عمر (رض) لوگوں کو نماز فجر کے لیے بیدار کرنے لگے یہ ان کی عادت تھی جب اس کے قریب پہنچے کور کر ان پر حملہ آور ہوا اور خنجر سے تین زخم لگائے ایک ناف کے نیچے سے جس سے گوشت تک زخم چلا گیا یہی جان لیواثابت ہواپھر اہل مسجد کو زخمی کرنا شروع کردیا عمر (رض) کے علاوہ مزید گیا افراد کو زخمی کیا پھر خنجر سے اپنے کو ذبح کردیا عمر (رض) نے اس وقت فرمایا جب ان کا خون بہنا شروع ہوا لوگ ان پر ٹوٹ پڑے کہ عبدالرحمن بن عوف سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دیں پھر عمر (رض) کے زخم سے خون بہنے لگا حتی کہ ان پر غشی طاری ہوگئی ابن عباس (رض) نے کہا میں نے ان کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ ملکر اٹھایا اور ان کے گھر میں داخل کیا پھر عبدالرحمن بن عوف نے نماز پڑھائی ابن عباس (رض) فرماتے ہیں برابر عمر (رض) کے پاس بیٹھا رہا وہ بےہوشی میں رہے یہاں تک صبح کی روشنی خوب اچھی طرح پھیل گئی اس کے بعدہوش آیا ہمارے چہروں کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے میں نے کہا ہاں تو فرمایا جو نماز ترک کرتا ہے اس کا اسلام نامکمل ہے پھر وضو کا پانی منگوایا وضو کیا اور نماز پڑھی پھر فرمایا اے عبداللہ بن عباس نکل کر لوگوں سے معلوم کریں میرے قتل کا ذمہ دار کون ہے ؟ ابن عباس نے کہا کہ میں نے نکل کر ایک ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا لوگ جمع ہوئے لیکن عمر (رض) کے قتل کے اسباب سے ناواقف تھے میں نے پوچھا امیر المومنین کو نیز ہ کس نے مارا لوگوں نے بتایا ابولؤلؤ اللہ کے دشمن نے جو مغیر ہ بن شعبہ کا غلام تھا میں حالات معلوم کرکے واپس پہنچا تو عمر (رض) میری طرف غور سے دیکھ رہے تھے اور خبر پوچھنے لگے میں نے کہا امیر المومنین نے مجھے خبر معلوم کرنے بھیجا تھا میں نے لوگوں سے پوچھاتو لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا دشمن ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے نیزہ مارا آپ کے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی مارا پھر اس نے خود کشی کرلی تو عمر (رض) نے فرمایا الحمد اللہ تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے کسی ایسے شخص کو میرا قاتل نہیں بنایا جس کا سجد ہ اللہ کے دربار میں س کے حق میں حجت کرے عرب مجھے قتل نہیں کرسکتے کیونکہ میں ان کی نزدیک محبوب ہوں اس سے اس پر لوگ اس وقت روپڑے تو عمر (رض) نے فرمایا ہم پر مت روءی جس کونا ہو باہر جاکر روئے کیا تم لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں سنا کہ میت کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتاہی یہی وجہ ہے عبداللہ بن عمر (رض) کسی میت پر رونے والے کو نہیں چھوڑتے تھے جو بچہ ہو یا بڑا ۔ حضرت عائشہ (رض) میت پرونے کی اجازت دیتی تھی ان کو عمر (رض) کو روایت کرد ہ حدیث سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر اور ابن عمر پر رحم فرمائے انھوں نے جھوٹ نہیں بولا البتہ مطلب سمجھنے میں غلطی کی اس حدیث کا شان ورد یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک میت پر گذرا ہوا جس پر گھروالے رو رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میت کے گھروالے رو رہے ہیں اور ان پر عذاب ہورہا ہے وہ ان کا گناہ کما رہا ہے۔ (رواة ابن سعد)