hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36058

.

كنز العمال

36058
Kanz al-Ummal
36049 عن أبي الحويرث قال : لما قدم غلام المغيرة بن شعبة ضرب عليه عشرين ومائة درهم كل شهر ، أربعة دراهم كل يوم ، قال : وكان خبيثا ، إذا نظر إلى السبي الصغار يأبي فيمسح رؤوسهم ويبكي ويقول : إن العرب أكلت كبدي ، فلما قدم عمر من مكة جاء أبو لؤلؤة إلى عمر يريده فوجده غاديا إلى السوق وهو متكئ على يد عبد الله بن الزبير فقال : يا أمير المؤمنين ! إن سيدي المغيرة يكلفني ما لا أطيق من الضريبة ، قال عمر : وكم كلفك ؟ قال : أربعة دراهم كل يوم ، قال : وما تعمل ؟ قال : الارحاء وسكت عن سائر أعماله ، فقال : في كم تعمل الرحى ؟ فأخبره ، قال : وبكم تبيعها ؟ فأخبره ، فقال : لقد كلفك يسيرا ، انطلق فأعط مولاك ما سألك ، فلما ولى قال عمر : ألا تجعل لنا رحى ؟ قال : بل أجعل لك رحى يتحدث بها أهل الامصار ، ففزع عمر من كلمته ، قال : وعلي معه فقال : ما تراه أراد ؟ قال : أوعدك يا أمير المؤمنين ! قال عمر : يكفيناه الله ، قد علمت أنه يريد بكلمته غورا (ابن سعد).
36049 ۔۔۔ ابوالحویرث سے روایت ہے کہ جب مغیرہ بن شعبہ کا غلام آیا تو ان پر ماہانہ ایک سوبیس درھم کی ادائیگی لازم کی گئی روزانہ چار دراھم وہ بڑا خبیث تھا جب چھوٹے قیدیوں کو دیکھتا تو ان کے سروں پر ہاتھ دھرتا اور روتا اور کہتا کہ عرب نے میرے جگر کھالیاجب عمر (رض) مکہ مکرمہ سے آئے تو ابولولوہ ان کے پاس پہنچے وہ عبداللہ بن زبیر کے کندھے پر سہارالگاکر بازار کی طرف جارہے تھی سامنے جاکر کہا امیر المومنین میرے آقا مغیرہ نے مجھ پر طاقت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا ہے عمر (رض) نے پوچھا کتنا ؟ بتایا روزانہ چار دراھم پوچھا کام کیا کرتے ہو بتایا چکی کا اور دیگر اعمال سے خاموشی اختیار کی پوچھا کتنی اجرت پر چکی بناتے ہو اس نے بتایا پوچھا کتنے میں بیچتے ہو اس نے بتایا تو عمر (رض) غنہ نے تفصیلات سن کر فرمایا تم پر ٹیکس کم ہے اپنے مولی کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس اداکرو جب واپس جانے لگا تو عمر (رض) نے کہا کیا تم ہمارے لیے کوئی چکی نہیں بناؤ گے تو اس نے کہا میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ شہر والے اس پر باتیں کرتے رہیں گے عمر (رض) اس کی باتوں سے ڈر گئے تو علی (رض) سے پوچھا کہ آپ اس کی باتوں کا کیا مطلب لیتے ہیں ؟ تو فرمایا امیر المومنین اس نے آپ کو دھمکی دی ہے تو عمر (رض) نے فرمایا ہمارے لیے اللہ کافی ہیں مجھے یقین ہوگیا کہ وہ اپنی بات کی انتہائی حد تک پہنچنا چاہتا ہے۔ (رواہ ابن سعد)