36075 عن عثمان بن عروة قال : كان عمر بن الخطاب قد استسلف من بيت المال ثمانين ألفا فدعا عبد الله بن عمر فقال : بع فيها أموال عمر ، فإن وفت وإلا فسل بني عدي ، فان وفت وإلا فسل قريشا ولا تعدهم ، قال عبد الرحمن بن عوف : ألا تستقرضها من بيت المال حتى تؤديها ؟ فقال عمر : معاذ الله أن تقول أنت وأصحابك بعدي : أما نحن فقد تركنا نصيبنا لعمر ، فتغروني بذلك فتتبعني تبعته وأقع في أمر لا ينجيني إلا المخرج منه ، ثم قال لعبد الله بن عمر : اضمنها ، فضمنها.
فلم يدفن عمر حتى أشهد بها ابن عمر على نفسه أهل الشورى وعدة من الانصار ، فما مضت جمعة بعد أن دفن عمر حتى حمل ابن عمر المال إلى عثمان بن عفان وأحضر الشهود على البراءة بدفع المال (ابن سعد).
36075 ۔۔۔ عثمان بن عروہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے بیت المال سے اسی ہزار روپے قرض لیا تھا عبداللہ بن عمر (رض) کو بلاکر فرمایا قرض کی ادائیگی کے لیے پہلے عمرکا مال فروخت کرنا اگر اس سے قرض ادا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ نبی عدی سے کہنا ان کے عطیہ سے پورا ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ قریش سے سوال کرنا ان کے علاوہ کسی اور سے نہ کہنا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا آپ بیت المال سے قرض کیوں نہیں لیتے تاکہ اس کو ادا کردیں تو عمر (رض) نے فرمایا معاذ اللہ تاکہ تم اور تمہارے ساتھی بعد میں یہ کہنے لگو کہ ہم نے تو اپنا حصہ عمر (رض) کے لیے چھوڑ دیا اس طرح تم مجھے دھوکا میں مبتلا کردو بھر بعد کچھ لوگ میری اتباع کرنے لگیں میں ایک ایسی بات میں پڑجاؤں اس سے کوئی نکالنے ولا نہ ہو پھر عبداللہ بن عمر (رض) سے فرمایا قرض کی ادائیگی کا ضامن بن جاؤ وہ ضامن بن گئے عمر (رض) کے دفن سے پہلے ہی عبداللہ بن عمر (رض) نے اس سلسلہ میں اپنے اوپر گواہ قائم کیا چند انصار کو ابھی دفن کے بعد ایک جمعہ بھی نہیں گذرا تھا کہ ابن عمر (رض) نے مال عثمان بن عفان (رض) کے حوالہ کیا اور مال اداکرکے بری ہونے پر گواہ قائم کیا۔ ( رواہ ابن سعد)